انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 283 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 283

انوار العلوم جلد ۱۳ 283 تحقیق حق کا صحیح طریق آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دورکعت ہی پڑھاتے تھے۔میں نے خلیفہ وقت کی پیروی کرتے ہوئے پڑھی تو چارہی ہیں مگر دعا یہ کی ہے کہ خدایا! میں نے رسول اللہ کے پیچھے دو پڑھی تھیں، اس لئے مجھے دو کا ہی ثواب عطا ہوئے۔میں سمجھتا ہوں۔حضرت عثمان نے چونکہ مکہ میں شادی کی ہوئی تھی۔اس لئے اپنے آپ کو وہاں مسافر نہ سمجھتے تھے۔مگر عبداللہ بن مسعود کو گوارا نہ ہوا کہ جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتداء میں انہوں نے دو رکعت کا ثواب حاصل کیا تھا وہاں آپ کے بغیر چار کا ثواب حاصل کریں۔مگر آج مسلمان اپنے عقیدہ کے لحاظ سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ قیامت تک کیلئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چھوڑ کر ساری نیکیاں حضرت عیسی کے نام لکھ دی جائیں۔کیا کسی مومن کی غیرت اسے برداشت کر سکتی ہے؟ دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بعض لوگ کہتے ہیں۔مانا نبی کی آمد ضروری ہے حضرت عیسی علیہ السلام نہیں آئیں گے مگر ہم کسی کی آمد مانتے ہی نہیں، نہ آسمان سے نہ زمین سے اور کسی کے آنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔اس سوال کا جواب سورۃ فاتحہ میں ہے جسے نماز پڑھنے والے دن میں کم سے کم پچاس دفعہ پڑھتے ہیں اور ہر روز دعا کرتے ہیں کہ اھدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ ( یعنی اے خدا ہمیں سیدھا راستہ دکھا وہ رستہ جو منعم علیہ گروہ کا ہے اور ہم مغضوب اور ضال نہ ہوں، جن لوگوں پر تو نے غضب نازل کیا یا جو آپ تجھے چھوڑ گئے، ان میں ہمیں شامل نہ کیجیو ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے مراد یہود اور نصاری لئے ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ امت محمدیہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد بگاڑ ممکن تھا یا نہیں۔جو لوگ سمجھتے ہیں کسی روحانی مصلح کے آنے کی ضرورت ہی نہیں، ان کو غور کرنا چاہئے کہ اگر بگاڑ ممکن ہے تو آنے والے کی ضرورت بھی ثابت ہے تا کہ وہ اصلاح کرے اور قرآن کریم سے ثابت ہے کہ بگاڑ ممکن ہے کیونکہ جب یہ دعا موجود ہے کہ ہم مغضوب اور ضال نہ بنیں، تو ظاہر ہے کہ بگاڑ ممکن تھا وگر نہ جو کام ہونا ہی نہیں تھا، اس کے لئے دعا سکھانے کی کیا ضرورت تھی۔اگر کہا جائے یونہی دعا ہے تو ہم کہیں گے یہ دعا کیوں نہ سکھلائی کہ ہم فرشتے بن جائیں۔کوئی انسان زمینی کیر انہیں بن سکتا، سورج چاند نہیں بن سکتا اس لئے اس سے بچنے کیلئے کوئی دعا نہیں سکھائی گئی اللہ تعالیٰ اس سے بچنے کی دعا سکھاتا ہے جو ممکن ہے۔اب اگر یہ صحیح ہے کہ مسلمانوں نے نہیں بگڑنا تھا تو یہ دعا کیوں روز ہمارے ذمہ لگا دی کہ ۵۰ دفعہ پڑھا کرو۔اس