انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 282 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 282

282 انوار العلوم جلد ۱۳ تحقیق حق کا صحیح طریق ہے لیکن جو آپ کی بعثت سے قبل کا پڑھا ہوا ہو اس کا کام آپ کی طرف کیونکر منسوب ہوسکتا ہے۔مثلاً میں نے جو کچھ پڑھا ہے یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پڑھا ہے کیونکہ اگر آپ نہ پڑھتے تو میں کس طرح پڑھ سکتا لیکن حضرت عیسی دوبارہ آ کر جو تلاوت آیات کریں گئے وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب نہیں ہو سکتی کیونکہ وہ تو آپ کی بعثت سے پہلے کے ہی پڑھے ہوئے ہیں۔پھر فرماتا ہے وَيُزَکیهِمُ یعنی آپ سب کا تزکیہ کریں گے۔اس پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا حضرت عیسی نَعُوذُ بِاللهِ گندے ہو کر آئیں گے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کا تزکیہ کریں گے۔اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کے بعد آپ کے بغیر کوئی شخص پاک نہیں ہو سکتا۔انبیاء ہمیشہ یا تو تکمیل کیلئے آتے ہیں جیسے موسوی سلسلہ کے نبی تھے۔یا پھر اس وقت آتے ہیں جب ساری قوم خراب ہو جائے اس لئے یا تو تسلیم کرو کہ قرآن کریم نامکمل ہے اور حضرت عیسی علیہ السلام اسے مکمل کرنے کیلئے آئیں گے۔یا یہ مانو کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد جب حضرت عیسی آئیں گے تو نَعُوذُ بِاللهِ غیر مز کی اور گندے ہوں گے اور یہ کتنا بڑا حملہ ہے، پھر غور کر و حضرت عیسی آ کر جن لوگوں کو پاک کریں گئے وہ کس کے کھاتے میں لکھے جائیں گے۔حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی کے ہدایت پانے کا ثواب منبع ہدایت تک پہنچتا ہے اس لئے سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت عیسی کے ذریعہ جو لوگ ہدایت پائیں گئے ان کا ثواب کس کو پہنچے گا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تو پہنچ نہیں سکتا کیونکہ حضرت عیسی نے جو کچھ سیکھا اللہ تعالیٰ سے براہِ راست سیکھا ہے۔پس کیا اس بات سے مسلمانوں کے دل خوش ہوتے ہیں کہ حضرت عیسی ضرور آجائیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ترقیات بے شک قیامت تک کے لئے رُک جائیں۔ہم تو ایسے کھانہ کو پھاڑ ڈالیں گے جس میں محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نہ ہو۔صحابہ کا تو یہ حال تھا کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے علیحدہ ہو کر کسی نیکی کا ثواب بھی حاصل نہ کرنا چاہتے تھے۔بخاری اور احادیث کی دوسری کتب میں آتا ہے کہ حضرت عثمان نے ایک دفعہ جب کہ حج کیلئے مکہ میں گئے ہوئے تھے۔منی کے مقام پر نماز کی دورکعتوں کی بجائے چار رکعتیں پڑھ لیں حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں صرف دو پڑھا کرتے تھے اس پر صحابہ میں ایک بہیجان تو ضرور پیدا ہوا مگر انہوں نے خلیفہ کی اقتداء میں چار ہی پڑھ لیں۔حضرت عبدالرحمن بن عوف نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے کہا میں تو دو رکعت ہی پڑھاؤں گا لیکن حضرت عبد اللہ بن مسعود نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ