انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 277 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 277

انوار العلوم جلد ۱۳ 277 تحقیق حق کا صحیح طریق کہ آپ گھل کر اعتراض کریں ۔ پس یہ چیزیں ہماری نگاہ میں کچھ ہستی ہی نہیں رکھتیں ۔ ہمارا ایک ہی مقصد ہے اور وہ یہ کہ بندوں کو خدا سے واصل کر دیں اس میں ہمارا مقصد ہماری کوئی ذاتی غرض مخفی نہیں ۔ میں اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر بیان کرتا ہوں کہ جب میں بہت چھوٹا تھا یعنی میری عمر صرف گیارہ سال کی تھی تو ایک دفعہ میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا، کیا میں احمدی اس لئے ہوں کہ میں مدعی مسیحیت و مہدویت کا بیٹا ہوں یا اس لئے کہ یہی صداقت ہے اور خدا جانتا ہے کہ میں گھر کی چھت کے نیچے نہیں داخل ہوا جب تک مجھے یقین نہیں ہو گیا کہ عقل سے سمجھ کر میں نے احمدیت کو قبول کیا ہے اور یہی صداقت ہے ۔ خدا گواہ ہے کہ میں نے فیصلہ کیا تھا کہ اگر مجھے یقین نہ ہوا کہ یہ صداقت ہے تو میں یہیں سے باہر نکل جاؤں گا، کہیں چلا جاؤں گا اور گھر میں ہرگز داخل نہیں ہوں گا۔ میں اب بھی یہی کہتا ہوں کہ اگر کوئی ہمیں ثابت کر دے کہ خدا تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ماننے میں نہیں ملتا بلکہ اس کی باتیں ماننے سے ملتا ہے تو ہم غلاموں کی طرح اس کے پیچھے چلنے کو تیار ہیں ۔ وفات عیسی علیہ السلام اور صداقت مسیح موعود کا ثبوت اب میں اس امر کے متعلق کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ سلسلہ احمد یہ دنیا ایک اب میں اہم سوال کے سامنے کیا پیش کرتا ہے اور کہ اور کن دلائل کی بناء پر چاہتا ہے کہ لوگ اس کے بانی کو قبول کر کے خدا تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کریں ۔ اس ضمن میں قدرتی طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مرزا صاحب کے دعوای مسیح موعود کو کیوں مانیں؟ اور جبکہ وہ اسلام کو ہی دنیا کے سامنے پیش کرنے کے مدعی ہیں اور کوئی نئی چیز نہیں لائے بلکہ ان کے نزدیک اسلام ہی سب خوبیوں کا جامع ہے تو پھر جو لوگ اسلام کی صداقت کے قائل ہیں، وہ اس سلسلہ میں کس لئے داخل ہوں اور میں سمجھتا ہوں جتنا یہ سوال لوگوں کے دلوں میں مضبوط ہوگا اتنا ہی حق کے پھیلنے میں آسانیاں ہوں گی کیونکہ اس کے رستہ میں مشکل یہی ہے کہ لوگ غور نہیں کرتے اس لئے ان کو صداقت نہیں ملتی ۔ آج میں اس طرح گفتگو کرنا چاہتا ہوں کہ اس سوال کا حل ہو جائے ۔ میرے نزد یک بانی سلسله احمد یہ رسول کریم ﷺ کی ذات پر شاہد ہیں اور رسول کریم ہے الله صلا آپ پر شاہد ہیں ۔ اگر ہم اسلام کا سچے دل سے مطالعہ کریں تو یہ بات صاف طور پر سمجھ میں آ جاتی ہے کہ حضرت مرزا صاحب کا دعوی بناوٹی نہیں تھا اور کہ آپ پر ایمان لانا دراصل رسول کریم