انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 273 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 273

انوار العلوم جلد ۱۳ 273 تحقیق حق کا صحیح طریق کچھ اس سے کرا سکتا ہے مگر اس سے انسان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا، اس میں انسان کیلئے کوئی ثواب نہیں جیسے لوہے کو لوہا بنے اور لکڑی کو کڑی ہونے کا کوئی ثواب نہیں۔ثواب اور ا جراسی چیز کا ہو سکتا ہے جسے طبیعت پر بوجھ ڈال کر اور کوشش سے حاصل کیا جائے۔مدرسہ میں محنت کرنے والوں کی ہی قدر کی جاتی ہے۔یہ بات قدر کے قابل نہیں ہوتی کہ کسی کے دوکان اور دو آنکھیں ہیں۔پس یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اللہ تعالیٰ جبر سے ہدایت دے سکتا ہے کیونکہ اس طرح پھر انسان کسی انعام کا مستحق نہیں ٹھہر سکتا۔اللہ تعالیٰ کا منشاء یہ ہے کہ انسان کو اپنے قرب کی نعمتوں سے تحقیق حق کا طریق ممسوح کرے اور میرے نزدیک یہ اسی طرح حاصل ہو سکتا ہے کہ انسان مذہب کے متعلق غور کرتے وقت سب سے پہلے یہ خیال کر لے کہ میں دیانتداری کے ساتھ اور خدا تعالیٰ کی خشیت کے ما تحت تحقیق کروں گا۔شیخی یا بڑائی کا خیال اس کے اندر نہیں ہونا چاہئے اور نیک نیتی کے ساتھ تحقیق کرنی چاہئے۔ہمارے صوبہ میں ایک بزرگ گزرے ہیں پہلے تو ان کی بہت مخالفت کی گئی، مگر اب ان کی بہت قدر کی جاتی ہے خصوصاً پنجاب میں۔میری مراد مولوی عبد اللہ صاحب غزنوی سے ہے جو سردار اہلحدیث تھے۔ایک دفعہ کچھ لوگ ایک مولوی صاحب کو ان سے بحث کرانے کیلئے لے آئے وہ صوفی منش آدمی تھے اور اہلحدیث ہونے کے باوجودان کا رجحان تصوف کی طرف تھا۔مولوی صاحب کو لے جانے والوں نے کہا کہ یہ فلاں مولوی صاحب ہیں اور آپ سے تبادلہ خیالات کرنا چاہتے ہیں۔مولوی عبداللہ صاحب نے نیچی نظروں سے مولوی صاحب کی طرف دیکھا اور کہا ہاں اگر نیت بخیر باشد وہ بھی نیک آدمی تھے کہنے لگے بس میں سمجھ گیا، بحث فضول ہے اور بحث کرنے سے انکار کر دیا۔اکھاڑے قائم کر نیوالوں کو نصیحت غرض انسان اگر اس مقصد کو بجھ لے جس کی خاطر وہ پیدا کیا گیا ہے تو دین کے بارے میں ہنسی اور محول کی طرف اس کی توجہ جاہی نہیں سکتی۔اس کا دل ہر وقت خشیت الہی سے دبا رہتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ بجائے اس کے کہ میں لوگوں سے لڑتا پھروں، مجھے خدا کے ساتھ اپنا معاملہ صاف کرنا چاہئے۔اسی وقت تقریر کرنے کیلئے کھڑا ہونے سے دومنٹ قبل مجھے ایک اشتہار دیا گیا ہے جس میں مجھے کہا گیا ہے کہ مباحثہ کر لو۔نیز انہوں نے لکھا ہے کہ ہم نے مباحثہ کا چیلنج آپ کو دیا تھا، پھر یہاں کی لوکل جماعت احمدیہ نے اس کا کیوں جواب دیا ہے اب آپ یہاں آئے ہوئے