انوارالعلوم (جلد 13) — Page 256
انوار العلوم جلد ۳ ۲۵۶ احمدیت کے اصول شخص دنیا میں پھرنے والا ہوگا اس کا اور۔ایک گاؤں میں رہنے والا مصور اگر نیچر کا نقشہ کھینچے گا تو یہی دکھائے گا کہ سبزہ لہلہا رہا ہے اور شاخوں پر چڑیاں بیٹھی ہیں لیکن وہ مصور جس نے کشمیریا سوئٹزرلینڈ کے قدرتی مناظر دیکھے ہوں گے وہ ان کا مرقع اور مناظر پیش کرے گا۔اسی طرح جس نے دوسری کتابوں کا مطالعہ نہیں کیا ہو گا، وہ قرآن کریم کی معمولی خوبیوں پر مطمئن ہو جائے گا لیکن جس نے دوسری کتب دیکھی ہوں گئی وہ قرآن کریم کے مخفی خزانوں کی تلاش کرے گا۔اس ایک نکتہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک ایسا گر بتا دیا جس سے قرآن کریم کی تفسیر کے متعلق نقطۂ نگاہ ہی تبدیل ہو گیا اور آج ہم ساری دنیا کے سامنے یہ بات پیش کرتے ہیں کہ تم کسی مذہب کی تعلیم خواہ وہ عبادت کے متعلق ہو خواہ وہ تمدن کے متعلق، نماز، روزہ، حج، زکوۃ میاں بیوی کے تعلقات بچوں سے سلوک، راعی ورعایا کے تعلقات، غرضیکہ روحانی واخلاقی شعبوں کی کسی شاخ کے متعلق کوئی تعلیم پیش کرو ہم اگر قرآن کریم سے اس سے بدرجہا بہتر اور مکمل پیش نہ کر دیں تو ہم جھوٹے وگر نہ تمہیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ قرآن کریم ہی الکتاب ہے۔تعلیم کتاب وحکمت کے دروازے چوتھی چیز حکمت سکھانا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی جبر کی تعلیم نہیں دی، کیونکہ اس سے نیکی نہیں پیدا ہوتی۔یہ کہنا کہ یہ کام کرو تو جنت ملے گی ورنہ خدا کا عذاب نازل ہوگا۔یہ بات بچے کے متعلق تو کام دے سکتی ہے لیکن ایک عقلمند کے دل میں ضرور یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کا تو مطلب یہ ہوا کہ نماز اس لئے پڑھی جاتی ہے کہ دوزخ سے بچ جائیں، ورنہ اپنی ذات میں نماز میں کوئی خوبی نہیں۔میں ڈنڈے کے ڈر سے اس حکم کی تعمیل کرتا ہوں۔یہ ایسی ہی بات ہے جیسے بچہ سے کہیں کہ پڑھنے جاؤ تمہیں فلاں کھلونا لے دیں گے۔وہ بچہ علم کوعلم کے لئے نہیں بلکہ کھلونے یا مٹھائی کیلئے حاصل کرے گا۔لیکن ایک طرف تو ہمارا یہ دعویٰ ہے کہ انسان ترقی کرتے کرتے ایسے مقام پر پہنچ گیا تھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا کامل انسان پیدا ہو گیا۔پہلے انبیاء کے وقتوں میں بنی نوع انسان کی حالت بچوں کی سی تھی اس لئے ان کیلئے شریعت بھی ویسی ہی نازل ہوئی۔پھر جب بلوغت کے قریب پہنچے تو شریعت بھی اسی نسبت سے آگے بڑھی حتی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر آ کر ختم ہوگئی۔چونکہ آپ کے زمانہ میں انسان بالغ ہو گیا لیکن سلوک اگر اب بھی اس سے بچوں والا ہی کیا جائے تو ہمارا یہ دعویٰ غلط ہوگا کہ دنیا بلوغت کو پہنچ گئی۔اگر اب بھی یہی کہا جائے کہ نماز پڑھو وگرنہ دوزخ میں جاؤ گے تو یہ انسان سے