انوارالعلوم (جلد 13) — Page 244
انوار العلوم جلد ۱۳ ۲۴۴ احمدیت کے اصول اس لئے مجھے تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں لیکن اس کے بعد ان لوگوں کے اندر جو پاکیزگی آئی اس کی ایک مثال بیان کر دیتا ہوں۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہ حبشہ میں ہجرت کر گئے تو مکہ والوں نے انہیں پکڑنے کیلئے ایک وفد بھیجا جس نے امراء کو تحائف وغیرہ دے کر اپنے ساتھ ملا لیا لیکن جب وہ نجاشی بادشاہ کے دربار میں پیش ہوئے اور کہا کہ ہمارے کچھ لوگ بھاگ کر یہاں آئے ہیں، انہیں لے جانے کی اجازت دی جائے تو اس نے کہا میں ان لوگوں سے باتیں کرنے کے بعد جواب دوں گا۔جب مسلمانوں کو طلب کیا گیا تو ان کے امیر نے کہا۔اے بادشاہ! ہم دنیا میں بدترین مخلوق تھے، شرابی زانی، چور ڈاکو فریبی اور عورتوں کی بے عزتی کرنے والے تھے مگر خدا نے ہم میں ایک نبی مبعوث کیا جس کے ذریعہ ہماری سب بد عادات چھوٹ گئیں اور ہماری حالتیں بالکل بدل گئیں نہ مانے والوں کی دنیا علیحدہ ہوگئی اور ہماری علیحدہ شہ یہ وہ دعوی تھا جو انہوں نے مخالفوں اور جانی دشمنوں کے سامنے پیش کیا مگر قریش کے وفد کو یہ جرأت نہ ہوئی کہ یہ کہہ سکے کہ یہ جھوٹ بولتے ہیں، یہ تو اب بھی ویسے ہی ہیں اور ان میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔اگر فی الواقع ان کے اندر پاکیزہ تغیر نہیں ہو چکا تھا تو کیا وجہ ہے کہ صحابہ وہاں دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم پاکباز ہو گئے ہیں مگر مخالف یہ نہیں کہہ سکتے کہ غلط کہتے ہیں یہ اب بھی ویسے ہی گندے ہیں۔یہ تزکیہ تھا جو بغیر رؤیت الہی کے نہیں ہو سکتا۔صفات عزیزیت و حلیمیت کا اظہار تیسری اور چوتھی چیز يُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ ہے۔قرآن کریم کی تفصیلات بیان کرنے کیلئے یہ لیکچر تو کیا اس جیسے دس ہزار لیکچر بھی کافی نہیں ہو سکتے۔یہ وہ تعلیم ہے جس نے دنیا سے منوالیا ہے کہ اس کا دنیا کی سب ضرورتوں پر حاوی ہونا ایسی بات ہے جس کا مقابلہ اور کوئی مذہب نہیں کر سکتا۔حکمت سکھانا بھی اسلام کی خصوصیت ہے۔نماز کیوں پڑھیں، روزہ کیوں رکھیں، حج کیوں کریں، زکوۃ کیوں دیں، غرضیکہ کوئی حکم ایسا نہیں جس کی حکمت نہ بیان کی گئی ہو۔ہر بات کے متعلق بتا دیا گیا ہے کہ اس میں تمہارا ہی فائدہ ہے اور تمہاری ہی ترقی کیلئے ہے۔یہ چار کام ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آکر دنیا میں کئے اور گویا یہ اسلام کا خلاصہ ہے۔یعنی اوّل خدا کی ذات مشاہدہ سے منوانا دوسرے بنی نوع انسان کو پاک کرنا، تیسرے ایسی تعلیم دینا جوسب ضرورتوں پر حاوی ہو اور چوتھے انسان میں ایمانی بشاشت پیدا کرنا اور اسے بتا نا کہ اس پر عمل کرنا تمہارے ہی فائدہ کا موجب ہے اور ایسی حکمتیں بیان کرنا کہ اس مذہب کو ماننے والا دوسروں کے