انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 241 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 241

انوار العلوم جلد ۳ ۲۴۱ احمدیت کے اصول سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی ہستی کے متعلق بھی عقلی دلائل ہر انسان کی فطرت میں پائے جاتے ہیں ان کے لئے بھی کسی نبی کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ایک فلاسفر کے متعلق مشہور ہے کہ اس نے کسی جاہل سے پوچھا خدا کی ہستی کا ثبوت کیا ہے۔اس نے کہا۔ہم جنگل میں مینگنیاں پڑی دیکھتے ہیں، تو سمجھ لیتے ہیں کہ کوئی بکری ادھر سے گذری ہے پھر اتنی بڑی کا ئنات کو دیکھنے سے یہ کیوں نہیں سمجھ سکتے کہ کوئی خدا ہے۔تو خدا تعالیٰ کے متعلق ہر انسان کی فطرت بول پڑتی ہے اور اس قسم کے دلائل کیلئے کسی نبی کی ضرورت نہیں ہوا کرتی۔یہاں اللہ تعالیٰ بتا تا ہے کہ ایسے دلائل تو مکہ والوں کو بھی معلوم تھے۔ان میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت سے پہلے ایسے لوگ تھے جو شرک کے خلاف تھے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ایک چچا ہمیشہ شرک کے خلاف تعلیم دیا کرتے تھے۔ان سے سوال کیا گیا آپ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان کیوں نہیں لاتے ؟ تو جواب دیا کہ میں نے شرک کے خلاف اتنی کوشش کی ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ اگر کوئی نبی آنا ہوتا تو وہ میں ہوتا ہے۔غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل بھی ایسے لوگ تھے جو شرک کیخلاف تھے اور وہ بغیر کسی دلیل کے اس بات کے مدعی تھے کہ خدا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کیوں مبعوث کیا۔یہ صاف بات ہے کہ انسان کی عقلی ایمان پر تسلی نہیں ہو سکتی۔دلائل صرف ” چاہئے تک پہنچاتے ہیں“ ہے تک نہیں۔مگر نبی خدا کی صفات کو ظاہر کر کے بتا دیتے ہیں کہ خدا ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آکر دنیا کو یہ نہیں بتایا کہ خدا چاہئے بلکہ یہ دکھا دیا کہ خدا ہے اور آپ نے اپنی زندگی کے ہر عمل سے دکھا دیا کہ ایک زندہ خدا موجود ہے۔تاریخ اسلام میں اس کی کئی مثالیں ملتی ہیں۔میں ان سب کو بیان نہیں کر سکتا اس وقت صرف ایک بیان کرتا ہوں جسے بچے بھی جانتے ہیں۔یہ ایک تاریخی واقعہ ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ سے ہجرت کر کے گئے تو غار ثور میں جا کر ٹھہرئے قریش نے تلاش شروع کی اور کھوجی کی مدد سے عین غار کے منہ تک پہنچ گئے، کھوجی نے وہاں پہنچ کر پورے وثوق سے کہا کہ یہاں تک آئے ہیں، اب یہ تو ہو سکتا ہے کہ یہاں سے آسمان پر چڑھ گئے ہوں مگر اس سے آگے ہر گز نہیں گئے۔مگر اللہ تعالیٰ نے ایسے حالات پیدا کر دیئے اور مکڑی نے غار کے منہ پر جا لائن دیا اسے دیکھ کر ان میں سے ایک نے کہا میں تو ہمیشہ یہاں آتا ہوں۔یہ غار تو ویسی کی ویسی ہی ہے اور ہمیشہ ایسی ہی حالت میں ہوتی ہے۔کھوجیوں پر اہل عرب بہت اعتماد رکھتے تھے۔کھوجی پورے یقین سے کہتا ہے کہ اس جگہ سے آگے نہیں گئے۔وہ لوگ غار کے منہ پر کھڑے ہیں اس وقت حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ "