انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 23 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 23

۲۳ انوار العلوم جلد ۱۳ دنیا میں سچاند ہب صرف اسلام ہی ہے آتشک کی مرض بھی قریب لا علاج تھی لیکن گو مختلف علاجوں سے بعض دفعہ ظاہری علامات مٹ جاتی تھیں مگر اس موذی مرض کا اثر جسم میں باقی رہتا تھا اور صحت ہمیشہ کے لئے برباد ہو جاتی تھی۔مگر سالورسن اور نیو سالورسن کی ایجاد سے اس عظیم الشان خطرہ سے بھی بنی نوع انسان نے نجات پالی ہے اور اب ہزاروں آدمی اس کے زندگی کے تباہ کرنے والے زہر سے بگلی پاک ہو جاتے ہیں اور کارآمد زندگی بسر کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔پتھری کی مرض کیسی خطر ناک تھی اور جب تک اس کا آپریشن کرنے کا طریق معلوم نہیں ہوا، اس کا مریض کس طرح اپنے سامنے یقینی موت دیکھتا تھا۔اس سے قریباً ہر ملک کے لوگ واقف ہیں۔گھیگے کی مرض کو مہلک نہ ہو مگر کیسی بدنما ہوتی ہے۔درحقیقت اس مرض سے زندگی تلخ ہو جاتی ہے اور شکل نہایت بُری اور ڈراؤنی معلوم ہوتی ہے اور شاید بہت ہوں جو اس مرض کی وجہ سے موت کو زندگی پر ترجیح دیں مگر اس کا کوئی علاج نہ تھا یہاں تک کہ آپریشن نکلا اور آپریشن کے بعد بھی یہ مرض بار بار عود کر آتی تھی۔یہاں تک کہ ہو میو پیتھک علاج سے اس مرض کا ازالہ کر دینا پوری طرح ممکن ہو گیا اور آٹو ہیمک علاج نے تو اس کا ایک ایسا یقینی علاج بنی نوع انسان کے ہاتھ میں دے دیا کہ اب یہ مرض بالکل معمولی رہ گئی ہے اور بعض ڈاکٹروں کا تجربہ ہے کہ قریباً ننانوے فی صدی مریض بلا خطرہ کے پوری طرح شفا پا جاتے ہیں اور اس مرض کے عود کرنے کا بھی کوئی خطرہ نہیں رہتا اور نہ صرف گھیگا ہی دور ہو جاتا ہے بلکہ تھائرائڈ گلینڈ ز کے ورم کی وجہ سے عام صحت پر جو اثر پڑتا رہتا ہے وہ بھی دور ہو جاتا ہے۔اسی طرح رسولیاں اور بعض خاص قسم کے سیلان خون جو پہلے لا علاج اور مہلک سمجھے جاتے تھے ، اب ان کا آپریشنوں اور دواؤں سے علاج آسان ہو گیا ہے۔اور بیسیوں بیماریاں ہیں جیسے ذیا بیس، سل ، جگر کے پھوڑے، ہیضہ، کوڑھ، تپ محرقہ ، بیماری ہائے قلب، سرطان، ہڈی کا شکستہ ہو کر باہر آ جانا، فتق ، کبورت دم، بول الدم ، ٹیرا پن ، اپنڈی سائٹس ، آنکھ کے اعصاب کے فالج سے بینائی کا جاتے رہنا، نوا سپر انتڑیوں میں بل پڑ جانا، بچہ کا رحم میں پھنس جانا وغیرھا۔جن کے علاج یا تو بالکل نہ تھے یا اگر تھے تو محض خیالی کیونکہ ان علاجوں کا یقینی نتیجہ نہیں نکلتا تھا اور نہیں کہا جا سکتا تھا کہ صحت دواؤں کے اثر سے ہوتی ہے یا خود بخو دطبیعت اچھی ہو گئی ہے لیکن ان کے ایسے علاج نکل آئے کہ علمی طور پر ان کو یقینی علاج کہا