انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 22 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 22

انوار العلوم جلد ۱۳ کرتی چلی گئی ہے۔دنیا میں سچاند ہب صرف اسلام ہی ہے پچھلی دو سو سال کی علمی ترقی نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس بات کی صداقت پر مہر لگا دی ہے کہ ہر ایک مرض کی دوا موجود ہے اور آج ہم بہت سے ایسے امراض سے نجات پا سکتے ہیں جن کا علاج آج سے دو سو سال پہلے بالکل ناممکن خیال کیا جا تا تھا یا ایسا مشکل تھا کہ بہت کم مریض اس سے بگلی شفا پاتے تھے۔کز از کامریض جس سختی اور شدت سے بعض شدیدا مراض اور ان کا علاج جان تو ڑا کرتا تھا، اُس کو دیکھ کر بہتوں کے دل پل جاتے تھے۔موت کو چھوڑ کر اُس مریض کی تکلیف ہی ایسی ہوتی تھی کہ اس کے رشتہ دار اسے بھی غنیمت سمجھتے کہ مریض آرام کے ساتھ مر سکے لیکن تریاق کز از ٹیکا کی ایجاد سے اگر مرض شروع ہوتے ہی ٹیکا کر دیا جائے تو ایک معقول تعداد میں مریضوں کی جان بچ جاتی ہے اور اگر امکان زہر ہی کی حالت میں اثر کے ظاہر ہونے سے پہلے ٹیکا کر دیا جائے تو قریباً سب کے سب آدمی اس مرض کے حملہ سے بچ جاتے ہیں اور اس کے علاج میں اس ترقی کو دیکھ کر آئندہ کے لئے ہمارا کامل علاج کے نکلنے کی امید کرنا خلاف عقل نہیں ہے۔خناق کا مرض بھی نہایت خطرناک مرض ہے اور نہایت ہی مہلک ثابت ہوتا رہا ہے اور چونکہ اس میں گلے کے اندر ایک زائد جھلی پیدا ہو جاتی ہے اور سانس رکنے لگ جاتا ہے اس مریض کی حالت بھی نہایت قابلِ رحم ہوتی ہے اور چند گھنٹوں کے اندر ہی مریض کی حالت یاس کی ہو جاتی ہے اور نہایت دکھ سے سانس رُک رُک کر مر جاتا ہے۔یہ مرض بھی لا علا ج ہی سمجھا جاتا تھا اور اگر اس مرض کے بیمارا چھے ہوتے تھے تو اس قدر علاج کا اثر نہیں سمجھا جاتا تھا جس قدر کہ طبیعت کی طاقت مقابلہ کا۔لیکن تریاق خناق ٹیکا کے نکلنے سے اس مرض کے علاج میں بھی بہت سہولت پیدا ہوگئی ہے اور ایک معقول تعداد میں مریضوں کی جان بچ جاتی ہے۔ملکے گتے کے کاٹنے کے نتائج سے بالعموم لوگ واقف ہیں اس زہر کا علاج بھی دنیا کو اس سے پہلے معلوم نہ تھا اور جو کچھ علاج کیا جاتا تھا وہ یقینی نہ ہوتا تھا اور علاج کہلانے کا مستحق نہ تھا۔مگر اب پسٹیور طریق علاج سے ہزاروں جانیں ہر سال اس خطر ناک آفت سے بچائی جاتی ہیں اور ان بھیانک مناظر کے دیکھنے سے سگ گزیدہ کے رشتہ دار بچ جاتے ہیں جو اس سے پہلے ان کو دیکھنے پڑتے تھے۔