انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 234 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 234

انوار العلوم جلد ۱۳ ۲۳۴ اہم اور ضروری امور کے اندر کسی اہم حادثہ سے فوراً ایک تبدیلی پیدا ہو جائے اور سلوک یہ ہے کہ مجاہدہ اور بحث سے آہستہ آہستہ تبدیلی پیدا ہو۔یورپ والے بھی ان کو تسلیم کرتے ہیں اور وہ فوری تبدیلی کو کنورشن (CONVERSION) کہتے ہیں۔صوفیاء کنورشن کو ہی ابدال کہتے ہیں۔ابدال کی مثال یہ ہے کہ لکھا ہے ایک شخص ہمیشہ بُرے کاموں میں مبتلا رہتا تھا۔اُسے بہت سمجھایا گیا مگر اُس پر کوئی اثر نہ ہوتا۔ایک دفعہ کوئی شخص گلی میں گذرتا ہوا یہ آیت پڑھ رہا تھا۔اَلَسمُ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللهِ۔کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ مومنوں کے دل میں خشیت اللہ پیدا ہو۔اُس وقت وہ حص ناچ اور رنگ رلیوں میں مصروف تھا، آیت سُنتے ہی چنیں مارکر رونے لگ گیا، سارا قرآن سن کر اُس پر اثر نہ ہوتا تھا لیکن یہ آیت سن کر اُس کی حالت بدل گئی۔یہ اصلاح کنورشن کہلاتی ہے۔ایک سلوک ہوتا ہے یعنی انسان اپنی اصلاح کی آہستہ آہستہ کوشش کرتا ہے وہ ذکر الہی کرتا ہے مگر کبھی اُس سے غلطی بھی ہو جاتی ہے، اس پر وہ تو بہ کرتا ہے دعائیں کرتا ہے اور دوسروں سے دعائیں کراتا ہے اور اس طرح اپنی اصلاح میں لگا رہتا ہے لیکن کبھی یہ دونوں باتیں ایک ہی انسان میں پائی جاتی ہیں۔جماعت احمد یہ میں جو شخص داخل ہوتا ہے اس پر یہ دونوں حالتیں آتی ہیں جب کوئی پہلے پہل داخل ہوتا ہے تو وہ ابدال میں شامل ہوتا ہے ایک عظیم الشان تغییر اس پر آتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک الہام ہے۔يَدْعُونَ لَكَ أَبْدَالُ الشَّامِ شام کے ابدال تیرے لئے دعائیں کرتے ہیں۔گو اس جگہ ابدالِ شام کا ذکر ہے لیکن ہم اس سے نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ احمدیت میں سچے دل سے داخل ہونے والے ابدال میں شامل ہوتے ہیں۔یعنی شخصیت کو بدل دینے والی ایک فوری تبدیلی ان میں پیدا ہوتی ہے جیسا کہ اس لفظ کے معنوں سے ثابت ہے۔بدل عوض کو کہتے ہیں اور تغیر کو بھی۔مراد یہ ہوتی ہے کہ پہلے وجود کی جگہ ایک نیا وجود اس شخص کو ملتا ہے۔مگر یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ بعض لوگ پورے ابدال بن جاتے ہیں اور بعض ناقص۔یعنی کچھ حصہ ان کا سلوک کا محتاج رہ جاتا ہے اور ان لوگوں کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ آہستہ آہستہ مجاہدات سے اپنے بقیہ نقصوں کو دور کریں۔اس قسم کے نقصوں کو دور کرنے کیلئے وعظ اور نصیحت کی جاتی ہے مگر خالی وعظ سے یہ کام نہیں ہوتا بلکہ ایک مستقل نگرانی کی حاجت باقی رہتی ہے اور اسی لئے میں نے ارادہ کیا ہے کہ چند دوستوں کو بطور والسنٹئیر طلب کروں جو اس بات کا اقرار کریں کہ وہ اپنی بھی اصلاح کریں گے اور جماعت کے دوسرے لوگوں کی بھی ، اور ان کو بطور ستون مقر ر کیا جائے۔