انوارالعلوم (جلد 13) — Page 225
انوار العلوم جلد ۱۳ ۲۲۵ اہم اور ضروری امور پھر چھوڑ دیتے ہیں حضرت عائشہ نے ایک دفعہ رسول کریم ﷺ سے پوچھا۔سب سے اچھی نیکی کون سی ہے؟ آپ نے فرمایا۔جو ہمیشہ جاری رہے۔۔اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ جو کمزور ہوں وہ اپنے لئے دو پیسے یا ایک پیسہ ہی چندہ مقرر کر لیں اور پھر ہمیشہ ادا کرتے رہیں۔چوتھی چیز رضائے الہی کا حصول ہے۔جب رضائے الہی آجاتی ہے تو سارا ڈلڈ ر دُور ہو جاتا ہے اور یہ وہ چیزیں ہیں جن سے مصائب اور مشکلات دور ہوتے ہیں گھبرانے سے نہیں دُور ہوتے۔ہماری جماعت کو چاہئے کہ ان چیزوں کے حصول کی کوشش کرے۔میں نے کہا تبلیغ احمدیت کیلئے کن ذرائع سے کام لینا چاہیے تم کرتی ہے تبلیغ سامان خدا تعالیٰ نے بہم پہنچا دیے ہیں اب ان سے کام لینا ہمارا فرض ہے اور نتائج پیدا ہونے کے لئے ہماری جدوجہد کی ضرورت ہے۔اب میں یہ بتا تا ہوں کہ کیا ذرائع تبلیغ کے ہیں۔تبلیغ خدا کی سنت کے ماتحت دو رنگ رکھتی ہے۔ایک عام رؤ کہ لوگوں کے دلوں میں احساس پیدا ہو کہ احمدیت اچھی چیز ہے اور دوسری خاص رؤ کہ کچھ آدمی مدنظر رکھ لئے جائیں کہ وہ احمدی ہونے چاہئیں۔ان دونوں رؤوں کا پیدا کرنا ضروری ہوتا ہے۔عام اثر پیدا کرنے کے لئے تین چیزیں کام میں لائی جا سکتی ہیں۔(۱) جلسے (۲) اشتہارات (۳) کتب اور اخبارات کی تقسیم۔ان چیزوں سے عام رو پیدا کی جاسکتی ہے۔جلسوں سے ان پڑھ اور کم تعلیم یافتہ لوگ بھی فائدہ اُٹھا سکتے ہیں اس لئے عام جلسے تبلیغ کے لئے نہایت ضروری ہیں۔کتابیں اور اخبارات تو لکھے پڑھے لوگ ہی پڑھ سکتے ہیں ان پڑھ ان سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتا ایسے لوگ جلسوں میں تقریریں سن کر فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔دوسرا فائدہ جلسوں کا یہ ہوتا ہے کہ پڑھے لکھے لوگوں پر ماحول کا اثر ہوتا ہے۔یوں غیر ضروری زیادہ تعلیم سے بہت لوگوں کی عقلوں پر پردہ پڑ جاتا ہے اسی لحاظ سے اَنَعْلَمُ حِجَابَ الْأَكْبَرِ کہا گیا ہے۔وہ لوگ جن کو یہ وہم ہو کہ انہیں بڑا علم حاصل ہے وہ دوسروں کو اپنے علم سے فائدہ پہنچانے کی بجائے اپنی علمیت پر ہی گھمنڈ کرتے رہتے ہیں لیکن اگر ایسے لوگ بھی جلسہ میں چلے جائیں تو دوسروں کے اثر سے متأثر ہو کر آہستہ آہستہ اثر قبول کر لیتے ہیں، خواہ پہلے پہلے تمسخر ہی کیوں نہ