انوارالعلوم (جلد 13) — Page 212
۲۱۲ انوار العلوم جلد ۱۳ اہم اور ضروری امور خدا تعالیٰ نے کہا ہے کہ عید ہے چاہے کرو چاہے نہ کرو۔تو انہیں میں کیا کہوں۔جب کہ خدا تعالیٰ نے عید کرنا ان کی مرضی پر چھوڑا۔فقہاء نے یہی بحث کی ہے کہ چاند دیکھ کر روزہ رکھنا چاہئے اور چاند دیکھ کر عید کرنی چاہئے کیونکہ وہ ظاہری طور پر ہی مسئلہ بیان کر سکتے تھے۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو الہام کے ذریعہ بتایا گیا کہ عید تو ہے اور ظاہری شریعت کا لحاظ رکھتے ہوئے کہہ دیا چاہے کرو یا نہ کرو یعنی جو یہ سمجھتا ہے کہ شریعت کے ظاہری پہلو کا لحاظ رکھنا ضروری ہے، اس کے لئے اجازت ہے کہ مسئلہ کی ظاہری صورت پر عمل کرے اور عید نہ کرے۔لیکن جو یہ سمجھتا ہے کہ الہام کے ذریعہ جو خبر دی گئی ہے، اس کا لحاظ رکھنا چاہئے وہ اس دن روزہ نہ رکھے۔یہی بات یہاں روزہ رکھنے کے متعلق ہے۔جس کے دل میں اس بات کا غلبہ ہے کہ یہ سفر ہے وہ روزہ نہ رکھے ورنہ اس پر حکم عدولی کا فتولی لازم آئے گا اور جس کے دل میں اس بات کا غلبہ ہے کہ یہ مبارک دن ہیں اور یہ مبارک مقام ہے، یہاں کیوں نہ رمضان کی برکات سے فائدہ اُٹھاؤں جب کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کی اجازت دی ہے تو وہ روزہ رکھے۔ورنہ خطرہ ہے کہ دل کو زنگ نہ لگ جائے۔پس جو دوست یہاں ٹھہرنے کے ایام میں روزے رکھیں گئے ان کے روزے ادا ہو جائیں گے۔یہ نہیں کہ یہاں جو روزے رکھیں گے وہ نفلی روزے ہوں گئے یہ روزے فرضی ہونگے اور ان دنوں کے روزے بعد میں دوبارہ نہیں رکھنے پڑیں گے۔اب میں اس سال کے تبلیغ احمدیت کے کام کے تبلیغ احمدیت کے کام پر تبصرہ متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں۔احباب جانتے ہیں کہ اس وقت تک یوم التبلیغ دو دفعہ منایا جا چکا ہے۔یعنی گذشتہ دو سال میں دو دن ایسے مقرر کئے گئے جن میں لوگوں کو سلسلہ احمدیہ کی تبلیغ کی گئی یوم النبی ﷺ کی تقریب تو کئی سال سے منائی جارہی ہے۔۱۹۲۸ء میں پہلی دفعہ یوم النبی منایا گیا تھا جس کو اب ۶ سال ہو چکے ہیں۔ان جلسوں کے متعلق سالِ حال کا تجربہ پہلے سے بھی زیادہ شاندار اور امید افزا ہے۔خصوصاً پنجاب کے باہر کے علاقوں میں یوم النبی ﷺ کے جلسے خاص اثر رکھتے ہیں۔خاص کر بنگال میں یہ تحریک اس طرح گھر کر رہی ہے کہ ممکن ہے یہ ہند و مسلمانوں کی مشترکہ تحریک بن جائے۔بڑے بڑے معزز تعلیم یافتہ اور بااثر ہندو نہ صرف پرائیویٹ گفتگو میں بلکہ پبلک تقریروں میں بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ ہندوستان کے متحد ہونے اور ہند و مسلمانوں میں اتحاد پیدا کرنے کے لئے اس سے بہتر تحریک اور نہیں ہو سکتی۔ایک مشہور ہند ولیڈ رمسٹر پین چندر پال صاحب نے