انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 213 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 213

۲۱۳ انوار العلوم جلد ۱۳ اہم اور ضروری امور ایک دفعہ کہا۔ہندو مسلمانوں کو اس شخص کا ممنون ہونا چاہئے جس نے یہ تحریک جاری کی ہے۔اگر یہ تحریک آج سے میں سال پہلے جاری کی جاتی تو ہندو مسلمانوں کے باہمی تعلقات کی یہ حالت نہ ہوتی جو اب ہے۔اور اگر اس تحریک کو جاری رکھا گیا تو امید ہے کہ اہلِ ہند کے باہمی تعلقات میں خوشگوار تبدیلی پیدا ہو جائے گی۔اور بھی کئی ایک بڑے بڑے لوگ اس تحریک کے مفید اثرات سے متاثر ہو چکے ہیں اور بہت ممکن ہے کہ یہ تحریک عام ہو جائے۔اسی طرح یوم التبلیغ کی تحریک نے بھی بہت مفید اثر پیدا کیا ہے۔سوائے چند ایک مقامات کے عام طور پر نہ صرف اس کی مخالفت نہیں ہوئی، بلکہ لوگوں نے احمدیوں سے ہمدردی اور محبت کا اظہار کیا اور خواہش کی کہ انہیں سلسلہ احمدیہ کے متعلق باتیں سنائی جائیں۔بعض مقامات پر احمدیوں کی چائے وغیرہ سے تواضع کی گئی عزت و احترام کے ساتھ بٹھایا گیا اور شوق اور دلچسپی سے باتیں سنی گئیں۔ان امور سے معلوم ہوتا ہے کہ غیر مسلموں اور خاص کر ہندوؤں میں صلى الله رسول کریم ﷺ کی عظمت قائم کرنا اور انہیں آپ کی بے مثال خوبیوں کا معترف بنانا اور مسلمانوں میں احمدیت کی تبلیغ کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔بعض لوگ یونہی ڈرتے ہیں کہ شاید ان کی باتوں کا کوئی اثر نہ ہوا اور انہیں کامیابی حاصل نہ ہو۔ورنہ حق وصداقت کو قبول کرنے کے لئے لوگوں کے قلوب تیار کئے جارہے ہیں اور وہ بڑے شوق سے متوجہ ہو رہے ہیں۔اس میں قحبہ نہیں کہ جہاں عام لوگوں کے قلوب صداقت کے قبول کرنے کے لئے تیار ہیں وہاں ان لوگوں کو جو لیڈر کہلاتے ہیں، یہ بات بہت بُری لگ رہی ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ اگر عام لوگوں میں ہمیں کامیابی حاصل ہو گئی تو تمام سیاسی تحریکات ان کے ہاتھ سے نکل جائیں گی اور اس میں کیا شبہ ہے کہ اگر ہند و مسلمانوں میں ہمارے ذریعہ اتحاد پیدا ہو جائے تو وہ لیڈر جن کی لیڈری کی بنیا د ہندو مسلمانوں کے تفرقہ پر قائم ہے ان کے پاس کچھ نہ رہے گا اور وہ اپنی لیڈری کو برقرار نہ رکھ سکیں گے۔اس وجہ سے لیڈر کہلانے والوں میں ہماری مخالفت بڑھ رہی ہے جس کا ایک نمونہ کشمیر کمیٹی ہے۔اور دوسرا سرحد ضلع ہزارہ میں ہماری مخالفت کا زور شور ہے۔مگر اس سے جماعت کو گھبرانا نہیں چاہیئے بلکہ اپنی جد وجہد میں اور زیادہ اضافہ کر دینا چاہیئے۔یاد رکھو! اللہ تعالیٰ بھی اُسی وقت مدد کرتا ہے جب بندہ حقیقی طور پر اس کی مدد کا محتاج ہوتا ہے۔ہمیں اپنی طرف سے خدمت دین کے لئے پوری پوری کوشش کرنی چاہیئے اور ہر قسم کی مخالفت اور ہر قسم کی مشکلات کی کوئی پرواہ نہ کرتے ہوئے کرنی چاہیئے۔اور خدا تعالیٰ کی تائید و نصرت پر بھروسہ رکھنا چاہیئے۔اس حالت میں