انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 186 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 186

انوار العلوم جلد ۳ ۱۸۶ أسوة كامل أَمْ ضُعَفَاءُهُمْ ۲۷ مگر جب جماعت قائم ہو جاتی ہے اور روپیہ وغیرہ آنے لگے تو ان کے رشتہ دار مالک بن بیٹھتے ہیں اور آپس میں بانٹ لیتے ہیں مگر آپ نے فرمایا کہ جو اموال آئیں میری اولا دخواہ غریب ہی ہو اس کا ان پر کوئی حق نہ ہوگا۔غرباء نے دین کی خدمت کی تھی اور یہ رسول کریم ﷺ پر کوئی احسان نہ تھا۔ظاہر میں وہ بے شک آپ کی مدد کرتے تھے مگر اصل میں یہ ان کی اپنی جانوں کی مدد تھی مگر پھر آپ نے ان کی اس برائے نام امداد کا اس قدر لحاظ کیا صلى الله کہ فرمایا کہ ہم اپنی اولاد کا حق بھی خواہ وہ غریب ہی کیوں نہ ہو ان کو دیتے ہیں۔چوتھی صفت اس میں ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ 19 بیان کی صفتِ مَا لِكِ يَوْمِ الرِّينَ گئی ہے اور مالک وہ ہوتا ہے جو اپنی چیز کا پہلے سے فکر کرے۔نوکر تو کہہ دے گا دیکھا جائے گا مگر مالک تمام باتوں کا پہلے سے خیال کرے گا کہ کوئی جھگڑا نہ پیدا ہو اور رسول کریم عل الله روحانی طور پر اس طرح ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ ٹھہرے کہ جتنی غلطیاں انسان سے سرزد ہو سکتی ہیں ان سے روکنے کے طریق بتائے۔دنیا میں ہم دیکھتے ہیں۔ایک بج چوری کرنے والے کو سزا دے دیتا ہے مگر ان وجوہ کو نا پید کرنے کے لئے کوئی انتظام نہیں کرتا جو چوری کا باعث ہوتی ہیں۔باقی مذاہب نے یہ تعلیم تو دی ہے کہ شرارت کرنے والے کو سزا دی جائے مگر آپ نے شرارت کا دروازہ بند کیا ہے۔ایک طرف آپ نے استغناء پیدا کیا اور فرمایا حریص نہ ہو۔پھر اس خیال سے کہ غریب احتیاج کے باعث کسی چوری وغیرہ پر مجبور نہ ہو جائے زکوۃ اور صدقات کا انتظام فرمایا۔بعض مذاہب نے حکم دیا ہے کہ بد کاری نہ کرو مگر آپ نے حکم دیا کہ بدنظری نہ کرو جو بدکاری کا اصل باعث ہے اور پھر ضرورت کے نہ پورا ہو سکنے کی صورت میں انسان کو بداخلاقی سے بچانے کیلئے چار تک شادیوں کی اجازت دی اسے گویا حج والا نہیں بلکہ مالک والا معاملہ کیا۔کوئی مالک یہ نہیں کرتا کہ نوکر میرے جانوروں کو مارے گا تو اسے سزا دوں گا بلکہ وہ اسے پہلے سے روکتا ہے کہ جانوروں پر سختی نہ کرنا۔آپ چونکہ صفت مالک کے مظہر تھے اس لئے ہم سے زیادہ ہماری خیر خواہی کرتے تھے۔ایک صحابی دن کو روزہ رکھتے تھے اور رات کو جاگتے تھے۔آپ نے انہیں منع کیا اور فرمایا کہ تیری بیوی کا تجھ پر حق ہے، ہمسایہ کا حق ہے اور لِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقٌّ T یعنی تیرے نفس کا بھی تجھ پر حق ہے۔گویا جس طرح ما لک نوکر کو کہتا ہے کہ میرے گھوڑے کو تیز مت چلا ؤ اس طرح آپ نے بھی کہا۔