انوارالعلوم (جلد 13) — Page 187
2 انوار العلوم جلد ۱۳ ۱۸۷ أسوة كامل صفات الہی کا مکمل مظہر یہ مضمون اس قدر وسیع ہے کہ اس وقت اشارات کے سوا کچھ بیان کرنا ناممکن ہے اور یہ چاروں صفات آپ کے اندرا ایسے طور پر پائی جاتی ہیں کہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ آپ کامل اکمل بلکہ مکمل انسان تھے یعنی دوسروں کو بھی کامل بنانے والے۔پس ہر انسان جو خوبی اور حسن کو دیکھنے والا ہے اسے ان کی قدر کرنی چاہیئے۔اللہ تعالیٰ سے دعا آخر میں میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ جس غرض کے لئے ہم نے یہ دن قائم کیا ہے یعنی مختلف اقوام میں محبت والفت پیدا کرنا وہ اس سے پوری طرح حاصل ہو۔لوگوں کے اندر حسن کو دیکھنے کی عادت اور اہلیت پیدا ہو۔حسنِ ظاہری کو تو سب دیکھتے ہیں مگر اصلی حسن کو دیکھنے والے بہت کم ہیں۔اعلیٰ صداقت اور اعلیٰ اخلاق کو کوئی نہیں دیکھتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جو اپنے مظہر یعنی انبیاء پیدا کئے تھے، لوگوں میں انہیں دیکھنے کی عادت نہیں۔اللہ تعالیٰ اس حالت کو دور کر دے تا لوگ اس کے نور کو دیکھ سکیں۔اور ہندو سکھ عیسائی زرتشتی سب میں محبت پیدا ہو وہ انبیاء کے حسن کو دیکھ سکیں۔ہر قوم میں جواچھے نمونے ہیں، ان سے سبق حاصل کر سکیں۔بدھ ، کرشن اور زرتشت غرضیکہ سب انبیاء کی زندگی میں ایسے واقعات ہیں جن سے مسلمان سبق حاصل کر سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ہر جگہ حسن پیدا کیا ہے اور میں دعا کرتا ہوں کہ وہ لوگوں کو توفیق دے کہ اس سے فائدہ اُٹھا سکیں۔رسول کریم یہ تو سب کیلئے مطاع اور سب کی خوبیوں کے جامع ہیں۔لیکن ان کے نمونے ہر قوم میں ہیں۔پس ہر حسن کو دیکھو اور ہر نیکی پر نگاہ ڈالو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو صلح کا شہزادہ کہا گیا ہے اور میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ لوگوں کو توفیق دے کہ وہ اس بات کو سمجھ سکیں کہ صلح کا یہی رستہ ہے۔اور ہمیں بھی توفیق دے کہ دنیا میں صلح و آشتی پیدا کر سکیں اور ہر قسم کی ٹھوکروں سے محفوظ رکھے۔(آمین) ( مطبوعہ دسمبر ۱۹۳۳ ء قادیان) بخارى كتاب النكاح باب الاكفاء في الدين النساء : ٢ بخاری کتاب الادب باب فضُلُ صِلَةِ الرَّحِم، النساء : ۲