انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 175 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 175

انوار العلوم جلد ۱۳ ۱۷۵ أسوة كامل صرف پندرہ بیس منٹ باقی بچتے ہیں اور کون ہے جو اس قدر قلیل عرصہ میں اس بحر نا پیدا کنا رکو ئیر کر گزر سکے۔صرف اتنا ہو سکتا ہے کہ رسول کریم علیہ کے بعض اعمال کو بیان کیا جائے تا ماننے والوں کے علم اور محبت میں زیادتی ہوا اور دوسروں میں منافرت کم ہو۔آج میں اس امر کے متعلق کچھ بیان کروں گا کہ دنیا میں مذاہب کا اصل مقصد جتنے مذاہب ہیں وہ وصلِ الہی کو ہی اصل مقصد قرار دیتے ہیں۔ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی، زرتشتی، یہودی ، مجوسی ہر ایک اپنے مذہب کا اصل مقصد وصالِ الہی ہی بتاتے ہیں لیکن وہ سب کے سب اس وصال کو مرنے کے بعد قرار دیتے ہیں۔مثلاً سنا تنیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ مرنے کے بعد کامل انسان خدا تعالیٰ میں جذب ہو جاتے ہیں، آریہ کہتے ہیں کہ وہ لمبے عرصہ کے لئے خدا تعالیٰ کے قرب میں چلے جاتے ہیں، بدھوں کا بھی ایسا ہی عقیدہ ہے۔یہودیوں میں سے بعض تو قیامت کے قائل ہی نہیں جو قائل ہیں، وہ یہی سمجھتے ہیں۔زرتشتی مسلمان، غرضیکہ سب کا یہی خیال ہے۔اور سب نے اس وصال کا زمانہ بغد الموت رکھا ہے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ انسان سفر میں ہو تو بھی اپنے لئے کچھ نہ کچھ سامان ضرور کرتا ہے۔اس لئے دنیا میں بھی جو بطور سفر ہے وصالِ الہی کی کوئی تجاویز ہونی چاہئیں۔اور اس پر سب مذاہب کا اجتماع ہے کہ جب تک انسان حقیقی مقرب الہی حاصل کرئے اس وقت تک اس کی صفات کو اپنے اندر جذب کرے تو یہ بھی ایک قسم کا قرب ہے مثلا روزہ کیا ہے؟ یہی کہ انسان اللہ تعالیٰ کی طرح ایک وقت کے لئے کھانے سے ہاتھ اٹھائے پھر نماز ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح خدا تعالیٰ بغیر کسی شریک ساتھی اور رشتہ دار کے ہے اسی طرح انسان بھی ایک وقت کے لئے اپنے ساتھیوں اور رشتہ داروں سے الگ ہو جائے اور اس طرح سب مذاہب میں کچھ نہ کچھ عبادات ہیں۔اور سب مذاہب اس امر پر متفق ہیں کہ اصل مقصد انسانی زندگی کا قرب الہی ہے اور دنیا میں اس کی مثال اللہ تعالیٰ کی صفات کا دل میں پیدا کرنا ہے اور کامل انسان وہی ہو گا جو زیادہ سے زیادہ صفات الہی اپنے وجود میں ظاہر کرے گا۔صفات الہی کا مظہر اتم آج کے مضمون میں میں رسول کریم ﷺ کے کاموں میں سے اسی کام کو لیتا ہوں اور بتا تا ہوں کہ آپ نے صفات الہی کو جس قدر اپنے اندر جذب کیا ہے اس کی مثال اور کہیں نہیں مل سکتی اور اسی غرض سے میں نے شروع میں سورۃ فاتحہ پڑھی ہے۔