انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 174 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 174

انوار العلوم جلد ۱۳ ۱۷۴ أسوة كامل احمدیوں کی وسعت قلبی ہماری چھوٹی مسجد کے نیچے سے ہندو مسلم سکھ براتیں باجہ بجاتے ہوئے گزر جاتی ہیں اور نماز کے وقت بھی جبکہ میں نماز پڑھا رہا ہوتا ہوں، گزرتی ہیں لیکن میں نے انہیں کبھی نہیں روکا۔بلکہ بعض لوگوں نے روکنا چاہا تو میں نے انہیں بھی منع کیا۔اگر کوئی شخص باجے سے ہماری توجہ کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے تو دین کی طرف ہماری توجہ ہی کیا ہوئی۔چاہیئے کہ ہم دین میں ایسے مگن ہوں کہ کوئی چیز ہمیں اپنی طرف متوجہ نہ کر سکے۔مجھے تو کبھی اس کا احساس نہیں ہوا۔بلکہ اگر کسی کو ہوا تو میں نے اسے بھی منع کیا اور یہی کہا کہ یہ گلی گزرنے کی ہے اور اب تک اس میں سے ہندو، سکھ ، مسلمان سب کی براتیں گزرتی ہیں ، یہاں کی بھی اور باہر کی بھی، اور میرا خیال ہے کہ یہی ذریعہ صلح کا ہے نا پسندیدہ باتیں خواہ ہند و محلہ میں ہوں یا اپنے محلہ میں ہر حال میں ناپسندیدہ ہیں۔فساد کے خیال سے اگر دوسرے کے محلہ میں جا کر کوئی ایسی بُری حرکت کی جائے تو یہ زیادہ بُری بات ہے۔لیکن جو بات ہے ہی ناپسندیدہ اسے اپنے محلہ میں بھی نہیں کرنا چاہیئے۔جماعت کو نصیحت اس لئے میں بغیر تحقیق کے ہی یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر کسی نے کوئی حرکت کی ہے تو تو بہ کرے اور اگر نہیں کی تو آئندہ کے لئے مزید احتیاط کرے۔اگر کوئی قوم پسند نہیں کرتی تو اس کی گلی میں سے نہ گزرا جائے لیکن پھر بھی میں یہ ضرور کہوں گا کہ یہ طریق صلح کا نہیں اس سے ہر جگہ اور ہر قوم میں فساد ہوتے رہتے ہیں۔ایسی ہی باتوں سے ہند و مسلمانوں میں اور پھر مدراس کے علاقہ میں عیسائیوں اور ہندوؤں کے مابین فساد ہوتے رہتے ہیں۔یہ خیال کہ ہماری مسجد یا محلہ میں سے کوئی گزر جائے تو یہ تک ہے قطعاً غلط ہے۔اگر وہ ہمارا بھائی ہے تو اس میں بہتک کی کیا بات ہے؟ لیکن جب تک دل نہیں بدلتے اور کسی کو دکھ ہوتا ہے اس وقت تک اگر ہم چھوڑ ہی دیں تو کیا حرج ہے۔مضمون کی وسعت اور وقت کی تنگی اس کے بعد میں اس غرض کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں جس کے لئے یہ جلسہ منعقد کیا گیا ہے۔اس میں رسول کریم ﷺ کی زندگی کے تفصیلی واقعات تو کسی صورت میں بیان نہیں ہو سکتے کیونکہ وقت بہت تھوڑا ہوتا ہے۔سردیوں کے دن ہیں۔اوّل تو عصر و مغرب کی نمازوں کے درمیان وقفہ ہی گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ کا ہوتا ہے۔اس میں سے کچھ وقت یہاں پہنچنے میں لگ جاتا ہے، کچھ تلاوت و نظم میں، پھر کھڑے ہونے اور تمہید میں کچھ صرف ہو جاتا ہے۔اور