انوارالعلوم (جلد 13) — Page 173
انوار العلوم جلد ۳ ۱۷۳ أسوة كامل ان کے اس شکوہ کے متعلق کہ جلوس ان کی مصنوعی حد بندیوں کے نقصانات گلیوں میں سے گزرا جس کا پہلے دستور نہ تھا میں اپنا خیال ظاہر کر دیتا ہوں اور میرا اپنا خیال یہ ہے کہ یہ تنگ دلی ہم سب قوموں کو مٹا دینی چاہیئے۔میرے نزدیک جب تک ہند و بازار مسلم بازار اور ہند و محلہ مسلم محلہ کی تفریق باقی ہے ہمارے اندر محبت سے ایک دوسرے کی طرف بڑھنے کی جستجو پیدا ہی نہ ہو گی۔ان مصنوعی حد بندیوں کی وجہ سے قلوب میں ایسی گرہیں رہیں گی کہ جو ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ ملنے سے روکیں گی۔جو چیز قلوب کو مجروح کرتی ہے وہ خواہ ہند و محلہ میں کی جائے یا مسلم محلہ میں وہ بہر حال بُری ہے۔اگر ہندو اپنے محلہ میں مسلمانوں کو گالیاں دیں یا مسلمان اپنے محلہ میں ہندوؤں کو بُرا بھلا کہیں تو یہ تو بے شک صحیح ہے کہ چونکہ ایک دوسرے کی گالیوں کو ایک دوسرے نے سنا نہیں، اس لئے جوش نہیں پھیلے گا اور فساد نہیں ہوگا۔لیکن فساد اصل دل کا ہوتا ہے۔اگر اپنی اپنی جگہوں پر دروازے بند کر کے بلکہ کوٹھڑیوں میں اور اس سے بھی بڑھ کر ایک دوست دوسرے کے کان میں بلکہ اپنے ہی دل میں ایک دوسرے کو گالیاں دے تب بھی یہ فعل ویسا ہی بُرا ہوگا کیونکہ اپنے دل میں گالی دینے والے کا دل تو خراب ہو گیا اور ایسے دل میں محبت کی بنیاد قائم نہیں ہو سکتی۔اس لئے اگر قلوب کی درستی کو مد نظر رکھا جائے تو ایک دوسرے کو گالی دینے یا بُرا بھلا کہنے کے لئے ظاہر و باطن یا اپنے اور پرائے محلہ کی حد بندی کو ئی نہیں لیکن اگر دل شکنی نہ کی جائے اور ہند وجلوس ہمارے محلہ سے گزر جائے تو اس میں خرابی ہی کیا ہے اور اس میں اعتراض کی کونسی بات ہے یا اگر ہمارا جلوس بغیر کسی دشکنی کے ہند و محلہ میں سے گزر جائے تو اس میں کیا حرج ہے۔لیکن یہ میرا اپنا خیال ہے اور جب تک ہندوستان میں فساد کا اصل باعث سب کے اندر یہ وسعت قلبی پیدا نہیں ہوتی ، اس وقت تک اگر کوئی اعتراض کرتا ہے تو چاہیئے کہ اس محلہ کو چھوڑ دیا جائے لیکن میری اپنی رائے یہی ہے کہ صلح و آشتی کے لئے ہمیں یہ تنگ دلی دور کر دینی چاہیئے اور جن چیزوں میں ہمارے مذاہب نے دائرے قائم نہیں کئے مثلاً ہند و محلہ یا مسلم محلہ کسی مذہب نے نہیں بتایا تو ہم خواہ مخواہ نئی حد بندیاں کیوں کریں۔ہندوستان میں تمام لڑائیاں ایسی ہی تنگدلانہ ذہنیت میں پیدا ہوتی ہیں جس کا میں ہمیشہ سے مخالف رہا ہوں۔