انوارالعلوم (جلد 13) — Page 169
انوار العلوم جلد ۱۳ ۱۶۹ رحمة للعالمين نہ کر میری طرف دیکھ جو چیز تیرے لئے ماضی ہے میرے لئے حال۔بےشک کمزور انسان ماضی کو نا قابل وصول سمجھتا ہے اور سمجھتا رہا ہے لیکن میرے سامنے ماضی اور مستقبل سب ایک سے ہیں۔جس وجود کو تو دیکھنا چاہتا ہے میں نے اس کے ماضی کو مستقبل سے بدل دیا ہے۔میری طرف سیدھا چلا آٹو اس کو میرے قرب میں میری جنت کے اعلیٰ مقامات میں میرے کوثر کے کنارے پر اسی طرح میری نعمتیں تقسیم کرتا ہوا پائے گا جس طرح تیرہ صدیاں گزریں۔دنیا کے لوگوں نے اسے ہر قسم کی نعمتیں تقسیم کرتے ہوئے پایا تھا۔کیوں وہ سب کے لئے رحمت نہ ہو کہ میں نے اسے پیدا ہی تقسیم کے کام کیلئے کیا تھا تبھی تو وہ ابوالقاسم کہلایا اور تبھی تو اس نے منع کیا کہ کوئی شخص اس کی کنیت اختیار نہ کرے۔۱۸ میں نے کہا۔اے میرے دل میں بولنے والے ! میں تیرے ازلی حُسن پر قربان۔بے شک میر احمد رَحْمَةٌ لِلْعَلَمِيْنَ تھا لیکن تو رَبُّ الْعَلَمِينَ ہے۔تیری رحمت کے قربان ماضی کے ایک منٹ کو کوئی واپس نہیں لا سکتا لیکن تو نے تیرہ صدیوں کے ماضی کو مستقبل بنادیا اور وہ جسے ہم خیال کرتے تھے کہ پیچھے چھوڑ آئے ہیں، اس کی آئندہ ملاقات کا وعدہ دلایا۔اے میرے محمد کے معشوق آ۔میرے دل میں بھی گھر کر لے۔تیرا حسن سب سے بالا ہے۔تیری شان سب سے نرالی۔اور یہ کہتے ہوئے میری ایک آنکھ سے ایک آنسو نکل پڑا۔وہ میرے رخسار پر ڈھلکا ہی تھا کہ میری ایک بیوی میرے کمرہ میں داخل ہوئی۔میں نے عشق کا راز فاش ہونے کے خوف سے کھٹ وہ آنسو پونچھ دیا ور نہ نہ معلوم اس کے کتنے اور ساتھی اس کے پیچھے چلے آتے۔روزنامه الفضل ۲۶ نومبر ۱۹۳۳ء) السجدة: ۳۸ قشعرير: لرزه بدن کپکپی ے بنی اسرائیل: ۴۱ الزخرف: ۲۰ التحريم: ۷ الجاثية: ۲۵ کے منغض : رنجیدہ۔ناراض 1> البقرة: ٣٠ و گلتیوں: باب ۳ آیت ۱۱ تا ۱۴ ۱۰ پیدائش: باب ۳ آیت ۱۳ رومیوں: باب ۱۴ آیت ۹