انوارالعلوم (جلد 13) — Page 163
انوار العلوم جلد ۱۳ ۱۶۳ رحمة للعالمين کہ میں نے دیکھا بعض لوگ عبادت کیلئے عبادتگاہوں کی طرف آنا چاہتے تھے کہ بعض دوسرے لوگوں نے ان کو روکا اور کہا کہ تم کو کس نے کہا ہے کہ ان مقدس مقامات کو نا پاک کرو اور کیا تم کو شرم نہیں آتی کہ جب کہ تم عشائے ربانی میں فطیری کی جگہ خمیری روٹی استعمال کرتے ہوئے یا مقدس اشیاء کو دستانے پہن کر پکڑ لیتے ہو تم ہماری عبادت گاہوں میں داخل ہو کر انہیں نجس کرنا چاہتے ہو۔غرض اسی قسم کی باتیں تھیں جن پر میں نے دیکھا کہ لوگ ایک دوسرے کو عبادت گاہوں سے روک رہے تھے اور نتیجہ یہ تھا کہ لوگوں کی توجہ عبادت سے ہی ہٹ رہی تھی۔پھر میں نے دیکھا کہ بعض لوگ اس سے بھی آگ بڑھ گئے اور انہوں نے ثواب کا سب سے بڑا کام یہ سمجھا کہ جہاں موقع ملا دوسروں کی عبادت گاہ گرادی ، یہودی مسیحیوں کی عبادتگاہیں اور مسیحی یہودیوں کی اور بدھ ہندوؤں کی اور ہندو بدھوں کی عبادتگا ہیں گرا رہے تھے اور اپنے اعمال پر فخر کر رہے تھے اور ہر اک شخص یہ خیال کرتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی بخشش کا پیمانہ اس کے لئے دوسری اقوام کی عبادت گاہوں کے گرانے کے کام کے مطابق وسیع ہو گا۔آہ یہ مقدس جذبات کی بے حرمتی کا ایک حیا سوز نظارہ تھا۔ایک دل دہلا دینے والا منظر تھا میں نے کہا یہ ترقی ہے جو دنیا نے ان ہزاروں سالوں میں کی ہے جن میں قریباً ہر صدی نے ایک نبی پیدا کیا ہے۔کیا یہ ارتقاء ہے جسے علمائے سائنس ہمارے سامنے پیش کرتے ہیں؟ میں شاید نبیوں کے کاموں کی پائیداری کا قائل ہی نہ رہتا اگر وہی پاکیزہ آواز مقدس آواز جو پہلے میرے شبہات کا ازالہ کرتی رہی تھی، پھر بلند نہ ہوتی۔پھر میں اسے دنیا کی آوازوں کو دباتے ہوئے نہ پاتا۔پھر اسے جلالی انداز میں یہ کہتے نہ سنتا کہ حق آ گیا اور باطل بھاگ گیا، باطل تو بھاگا ہی کرتا ہے۔دین کے معاملہ میں جبر ہرگز جائز نہیں کیونکہ خدا تعالیٰ نے ہدایت اور گمراہی میں کامل فرق کر کے دکھا دیا ہے۔خدا تعالیٰ نے ہراک ضروری امر کو کھول دیا ہے اور بقدر ضرورت جسمانی پانی کی طرح وہ مختلف ممالک میں روحانی پانی برساتا رہا ہے۔ان کے اختلافات اس امر پر دلالت نہیں کرتے کہ وہ پانی پاک نہیں بلکہ صرف مختلف ممالک اور مختلف زمانوں کے لوگوں کی طبائع اور ضرورتوں کے فرق پر دلالت کرتا ہے جس کو جب اور جو ضرورت ہوئی خدا تعالیٰ نے ضرورت کے مطابق سامانِ ہدایت پیدا کر دیئے۔پس ان اختلافات کی وجہ سے ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو اور اگر کوئی ناحق پر بھی ہو تب بھی اسے جبر سے نہ منواؤ کہ خدا تعالیٰ کا معاملہ دل کی حالت کے مطابق ہے نہ کہ زبان کے قول کے مطابق۔خدا تعالیٰ کو تمہاری باتیں اور تمہارے ظاہری اعمال نہیں پہنچتے بلکہ اس کے حضور میں