انوارالعلوم (جلد 13) — Page 162
انوار العلوم جلد ۱۳ ۱۶۲ رحمة للعالمين سے اگر وہ چاہیں تو اللہ تعالیٰ کا کامل نور پا سکتے ہیں تو میں نے کہا کہ باوجود اس حسد اور بغض کے جو مختلف قوموں کو دوسرے مذاہب کے بزرگوں اور کتب سے ہے پھر بھی وہ اشتراک اور وہ مناسبت جو ایک دوسرے کے مذاہب میں پائی جاتی ہے اور ان اعلیٰ تعلیمات کی وجہ سے جو ان کی کتب میں بھری پڑی ہیں دنیا میں صلح اور امن کی تو ایک بنیاد قائم ہوگئی ہے۔گوغیریت اور غیرت کی وجہ سے ایک دوسرے کے بزرگوں کو تسلیم نہ کریں لیکن کم سے کم اس اتحاد نے دنیا کو لڑائی اور جھگڑوں سے تو ضرور بچا لیا ہو گا۔لیکن میری حیرت کی حد نہ رہی جب میں نے دیکھا کہ بعض لوگ بعض دوسرے لوگوں کو مار پیٹ رہے تھے اور طرح طرح سے دکھ دے رہے تھے کہ تم کیوں اپنا عقیدہ چھوڑ کر ہمارے عقیدے کو قبول نہیں کر لیتے ؟ میں نے دیکھا کہ بعض کو گالیاں دی جا رہی تھیں بعض کو پیٹا جا رہا تھا، بعض کا بائیکاٹ کیا جارہا تھا، بعض پر تمدنی دباؤ ڈالا جا رہا تھا اور بعض پر اقتصادی۔لیاقت تو موجود ہوتی لیکن ملازمت نہ دی جاتی ، اچھا مال تو فروخت کرنے کیلئے ان کے پاس ہوتا لیکن ان سے خرید وفروخت نہ کی جاتی ، عدالتوں میں بلا وجہ اور بے قصور ان کو کھینچا جاتا ، بعض کو تو جلا وطن کیا جاتا اور بعض کو تلوار سے ڈرا کر اپنا مذہب چھوڑ نے کیلئے کہا جاتا۔میں نے دیکھا کہ بعض دفعہ جس پر جبر کیا جاتا تھا اس کا عقیدہ جبر کرنے والے سے سینکڑوں گنے زیادہ اچھا ہوتا ، بعض دفعہ جبر کرنے والے کے اعمال نہایت گندے ہوتے اور جبر کے تختہ مشق کے اعمال نہایت پاکیزہ ہوتے ، میں حیران ہو کر دیکھتا کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔جب بعض لوگ ان جابروں سے پوچھتے کہ آخر یہ کیا ظلم ہے اور ان لوگوں کو کیوں دکھ دیا جاتا ہے تو لوگ جواب میں کہتے کہ آپ اپنے کام سے کام رکھیں ہم لوگ انصاف کر رہے ہیں اور ظلم نہیں بلکہ حقیقی خیر خواہی کرنے والے ہیں اگر مادی طور پر ہم نے کچھ پختی کر لی تو اس کا حرج کیا ہے؟ جب کہ ان کی روح کو ہم نجات دلا رہے ہیں۔میں نے دیکھا کہ یہ ظلم ترقی کرتے کرتے اس قدر بڑھ گیا کہ بعض لوگوں کو صرف اس جرم پر آزار پہنچائے جانے لگے کہ وہ کیوں اپنے رب کی آواز کو سنتے ہیں اور بعض کو اس لئے کہ کیوں تو حید کے قائل ہیں اور بعض کو اس لئے کہ کیوں خدا تعالیٰ کی طرف ظلم اور کمزوری منسوب نہیں کرتے اور میں نے لوگوں کو اس لئے بھی دوسروں پر جبر کرتے دیکھا کہ وہ کیوں تسلیم نہیں کرتے کہ خدا تعالیٰ بھی جھوٹ بول سکتا ہے۔آہ! یہ ایک بھیانک نظارہ تھا جسے دیکھ کر میری روح کانپ گئی اور میں نے کہا آخر ان نبیوں کے آنے کا کیا فائدہ ہوا۔یہ شریعتیں کس مصرف کی ہیں کہ ان کے باوجود یہ ظلم ہو رہے ہیں اور میں ابھی اسی سلوک پر حیرت کر رہا تھا