انوارالعلوم (جلد 13) — Page 13
انوار العلوم جلد ۳ ۱۳ اللہ تعالیٰ کے راستہ میں تکالیف محبت ہے، وہ عشق اور سوز ہے۔ابھی ایک شعر میں خاں صاحب نے بیان کیا ہے کہ جب شہدائے افغانستان پر پتھر پڑتے تھے تو وہ گھبراتے نہیں تھے بلکہ استقامت اور دلیری کے ساتھ اُن کو قبول کرتے تھے اور جب بہت زیادہ اُن پر پتھر پڑے تو صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید، نعمت اللہ خان اور دوسرے شہداء نے یہی کہا کہ یا الہی ! اِن لوگوں پر رحم کر اور انہیں ہدایت دے۔بات یہ ہے کہ جب عشق کا جذبہ انسان کے اندر ہو تو اس کا رنگ ہی بدل جاتا ہے، اُس کی بات میں تاثیر پیدا ہو جاتی ہے اور اُس کے چہرہ کی نورانی شعاعیں لوگوں کو بھینچ لیتی ہیں۔مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں یہاں ہزاروں لوگ آئے اور انہوں نے جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیکھا تو یہی کہا کہ یہ منہ جھوٹوں کا نہیں ہوسکتا۔انہوں نے ایک لفظ بھی آپ کے منہ سے نہ سنا اور ایمان لے آئے۔یہی جذ بہ آپ لوگوں میں بھی ہونا چاہئے۔اگر لوگ آپ کو ماریں اور اس کے مقابلہ میں آپ بھی لوگوں کو ماریں، اگر لوگ آپ کو گالیاں دیں اور اس کے مقابلہ میں آپ بھی لوگوں کو گالیاں دیں تو دنیا فتح کرنے کیلئے شاید ہزاروں سال بھی نا کافی ہونگے لیکن اگر وہ آپ کو ماریں اور آپ بھاگ جائیں تب بھی آپ دنیا کو فتح کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتے کیونکہ دنیا کبھی بُزدل کے قبضہ میں نہیں آ سکتی۔عشق کا تو یہ مطلب ہے کہ تم ماریں کھاؤ اور کھڑے رہو اگر تم مارو گے تو کامیابی نہیں ہوگی اور اگر تم مارکھا کر ہٹ جاؤ گے تب بھی کامیابی نہیں ہوگی کامیابی اُسی وقت ہوگی کہ وہ تمہیں ماریں اور تم دلیلیں دیتے چلے جاؤ۔تم ایک جگہ کھڑے ہو وہ تمہیں گالیاں دے رہے ہوں کہ تم خبیث ہو، غدار ہو، دشمن اسلام ہو مگر تم یوں ہو کہ گویا تمہارے کان ان آوازوں کو سنتے ہی نہیں۔تمہارے آنسو رواں ہوں اور تم یہ کہتے نظر آ رہے ہو۔اے بھائیو! حق اس طرف ہے تم قبول کر لو۔تمہارے دل میں یہ نہ ہو کہ بندوں کے عذاب کو زیادہ دکھ دینے والی چیز سمجھ لو بلکہ وہ تمہیں جتنا زیادہ دُکھ دیں اُتنا ہی زیادہ تم ان کیلئے رحم دکھاؤ۔کیونکہ وہ تمہیں جتنا زیادہ دکھ دیتے ہیں اتنا ہی زیادہ ان کی قابلِ رحم حالت ہوتی چلی جاتی ہے۔تم جانتے ہو کہ ماں اپنے بچہ کیلئے بعض دفعہ ساری ساری رات جاگتے گزار دیتی ہے مگر کیا تم نے کبھی دیکھا کہ کسی ماں نے شکوہ کیا ہو۔اسی طرح اگر وہ تمہیں مارتے ہیں تو وہ خدا کے غضب کے نیچے ہیں تم پر بندوں کا ہاتھ اُٹھ رہا ہے اور اُن پر خدا کا ہاتھ۔غور کرو، دونوں میں سے کون قابل رحم ہے۔کیا تم یا وہ جس پر خدا کا غضب مستولی ہونا چاہتا ہے۔یاد رکھو بندہ کے ہاتھ میں