انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 127 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 127

انوار العلوم جلد ۱۳ ۱۲۷ آہ ! نادر شاہ کہاں گیا اللہ تعالیٰ تخت کابل سے مستقل طور پر محروم کر کے لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْيَى کا مصداق بنادے گا وہاں اس الہام میں یہ بھی خبر تھی کہ نادر، بادشاہ ہونے کے بعد ایسے وقت میں کہ ابھی اُس کی ضرورت باقی ہو گی اس دنیا سے گزر جائے گا اور لوگ اُس کی ضرورت کو محسوس کریں گے۔ اور جیسا کہ قارئین کرام کو معلوم ہو گا، یہ حصہ پیشگوئی کا ۸ ۔ نومبر ۱۹۳۳ ء کو پورا ہو گیا ہے۔ یعنی اس تاریخ کو نادر شاہ بادشاہ افغانستان کو جبکہ وہ دلکشا محل میں ایک فٹ بال کے میچ کے بعد تقسیم انعامات کے لئے تشریف لائے تھے ایک دشمن ملک وملت نوجوان نے پستول کے تین فائر کر کے ہلاک کر دیا ۔ اِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اے لوگو ! جن کے دل میں ذرہ بھر بھی ایمان باقی ہے، میں تم سے کہتا ہوں کہ کیا یہ نشان خدا تعالیٰ کی ہستی کے ثبوت کے لئے کافی نہیں؟ کیا یہ نشان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سچائی کے ثبوت کے لئے کافی نہیں؟ کیا یہ نشان جو قریباً ۳۰ سال بعد آ کر پورا ہوا را ہوا اس امر کے ثابت کرنے کے لئے کافی نہیں کہ ہمارا خدا زندہ ہے ۔ وہ جس طرح آدم سے کلام کرتا تھا، نوح سے کلام کرتا تھا، ابراہیم سے کلام کرتا تھا، موسی سے کلام کرتا تھا، عیسی سے کلام کرتا تھا اور سب سے آخر میں لیکن سب سے زیادہ شان کے ساتھ حضرت محمد مصطفی " نبیوں کے سردار سے کلام کرتا تھا، آج بھی اپنے پیارے بندوں سے کلام کرتا ہے ۔ آج بھی اسلام کے لئے اس کے نشان ظاہر ہوتے ہیں اور اس کی طرف سے معجزے دکھائے جاتے ہیں۔ دیکھو! یہ کوئی معمولی پیشگوئی نہیں جو پوری ہوئی ۔ اگر ذرا تا مثل سے کام لو تو اس ایک پیشگوئی میں بہت سی پیشگوئیاں جمع ہیں ۔ نادر خاں کی بالکل مخالف حالات میں ترقی (1) مثلا جس وقت یہ الہام حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے شائع کئے اُس وقت نادر خاں ایک نوجوان طالب علم تھے اور ان کا خاندان اُس وقت ایسے حالات میں سے گزر رہا تھا کہ کسی بڑے عہدہ کی بھی انہیں امید نہ ہو سکتی تھی ۔ یعنی ان کا خاندان امیر عبدالرحمن کے زمانہ میں زیر عتاب رہ کر اس زمانہ کے بالکل قریب امیر حبیب اللہ خان کی معافی پر افغانستان پہنچا تھا اور بوجہ وطن سے ۲۰ سال باہر رہنے کے انہیں کامیابی کی زیادہ امید نہیں ہو سکتی تھی مگر اللہ تعالیٰ نے اس کو اس قسم کی ذہانت عطا کی کہ وہ فوجی کام میں جس پر وہ مقرر کئے گئے تھے خاص طور پر قابل ثابت ہوئے ۔ اور پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی ترقی کا یہ سامان کر دیا کہ سمت جنوبی میں بغاوت ہوئی جس میں شاہی فوجوں کو شکست ہوئی اس پر نادر خان اس