انوارالعلوم (جلد 13) — Page 125
۱۲۵ انوار العلوم جلد ۱۳ آہ! نادر شاہ کہاں گیا یہ امر ظاہر ہے کہ نہ مرنے اور نہ زندہ رہنے کی حالت ذلت ورسوائی کی حالت ہوتی ہے کہ نہ اس میں انسان کو زندہ کہا جا سکتا ہے کیونکہ اُس کی طاقت چھین لی جاتی ہے اور نہ مردہ کہا جا سکتا ہے کیونکہ وہ بظا ہر سانس لیتا ہے۔پس اس بددعا کا نتیجہ اسی طرح پیدا ہوسکتا تھا کہ امیر حبیب اللہ خان یا اس کی اولاد کے ساتھ ایسا سلوک ہو کہ وہ زندہ ہوتے ہوئے مُردوں کی طرح ہو جائے۔کا بل میں بدر کی جنگ کا نظارہ غرض یہ امر ثابت ہے کہ سلسلہ احمدیہ کے ساتھ مکہ والوں کی طرح کا سلوک کرنے والی حکومت صرف افغانستان ہی کی حکومت تھی اور ان کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے الفاظ قرآنی میں بددعا بھی کی تھی۔پس مذکورہ بالا الہام اسی حکومت کی نسبت ہوسکتا ہے اور چونکہ اس الہام میں اسلامی لشکر کا ذکر نہیں بلکہ صرف کنکر پھینکنے کا ذکر ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ افغانستان پر یہ تباہی کسی احمدی لشکر کے ذریعہ سے نہیں آئے گی بلکہ اللہ تعالیٰ یہ کام ایسے لوگوں سے لے گا جو کنکروں کی طرح ہوں گے۔یعنی اُن کی ذات میں کوئی خوبی نہ ہوگی بلکہ وہ صرف خدا تعالیٰ کا نشان پورا کرنے کے لئے ایک آلہ بنائے جائیں گے اور باوجود اس کے کہ وہ حقیر کنکر ہوں گے پھر بھی اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ سے جنگ بدر جیسا نشان دکھائے گا۔یعنی وہ بالکل تھوڑے ہو نگے اور بے سامان ہونگے اور دشمن زیادہ ہو گا اور با سامان ہوگا لیکن پھر بھی وہ حقیر اور ذلیل کنکر ایک نبی کی دعا کے ماتحت حکومت اور اس کے اراکین کو پاش پاش کر دیں گے۔چنانچہ دیکھو کہ جب حبیب اللہ خان نے تو بہ سے کام نہ لیا تو پہلے اسی کے بھائیوں کے ہاتھوں سے خدا تعالیٰ نے اس کو قتل کرایا‘ اس کے بعد امیر امان اللہ خان بادشاہ ہوئے اور انہوں نے باپ کی طرح تین بے گناہ احمدیوں کو قتل کرا دیا تب خدا تعالیٰ کا غضب بھڑ کا اور اُس نے اس خاندان کے حد سے بڑھے ہوئے ظلم کا بدلہ لینے کا حکم دے دیا اور اس اطلاع کے مطابق جو قبل از وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اُس نے دے رکھی تھی بچہ سقہ کو ایک جماعت کے ساتھ جو تعداد میں اصحاب بدر کے مطابق تھی یعنی گل تین سو سپاہی تھے امان اللہ خان کے مقابلہ کے لئے کھڑا کر دیا اور پھر دوبارہ بدر کی جنگ کا نظارہ دنیا نے دیکھا۔یعنی تین سو نا تجربہ کار اور بے سامان سپاہیوں نے ایک حکومت کا جو قلعوں میں محفوظ تھی تختہ الٹ دیا۔فَسُبْحَانَ الَّذِي بِيَدِهِ مَلَكُوتُ كُلَّ شَيْءٍ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ کا کنکروں کا اس طرح قلعوں کی دیواروں کو تو ڑ دینا آندھی کے جھونکوں کا تو پوں کے گولوں کے رُخ پھر ادینا کوئی معمولی نشان نہیں بلکہ ایک ایساز بر دست نشان