انوارالعلوم (جلد 13) — Page 123
۱۲۳ انوار العلوم جلد ۱۳ آہ ! نادر شاہ کہاں گیا اُس وقت لوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ اب افغانستان کی کابل میں طوائف الملو کی منظم حکومت کا خاتمہ ہے۔ایک جاہل اور ان پڑھ آدمی جسے سیاست اور تنظیم کا کچھ بھی علم نہیں برسرِ حکومت آ گیا ہے۔نتیجہ یہی ہوگا کہ ملک میں آئے دن لڑائی اور فساد ہوتا رہے گا اور حکومت افغانستان ٹکڑے ٹکڑے ہو کر اپنی ہمسایہ طاقتوں میں مدغم ہو جائے گی لیکن خدا تعالیٰ کا کلام پچیس سال پہلے اس فتنہ کو دور کرنے کیلئے ایک اور شخص کو منتخب کر چکا تھا جو بدامنی کی حالت کو بدل کر افغانستان میں از سر نو امن اور طوائف الملو کی کو دور کر کے پھر ایک منظم حکومت قائم کرنے والا تھا اور یہ شخص جرنیل نادر خان تھا جو اس فتنہ کے وقت فرانس میں بیمار پڑا ہوا تھا۔چونکہ نادر خان ایک ذہین جرنیل تھا۔بچہ سقہ کی بغاوت کے وقت ان کو بلانے کی پوری کوشش کی گئی لیکن اُن کی بیماری نے ان کو سر اُٹھانے کی مہلت نہ دی اور وہ امیر امان اللہ خان کی امداد کے لئے وقت پر روانہ نہ ہو سکے اور ایسا ہو بھی کس طرح سکتا تھا جب کہ خدا تعالیٰ کا منشاء کچھ اور تھا۔نا درشاہ کے متعلق پیشگوئی کی تشریح وہ پیشگوئی جس کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام بانی سلسلہ احمدیہ نے ۱۹۰۵ء میں شائع کی تھی اور دو الہاموں پر مشتمل تھی۔یہ الہام آپ کو ۳ مئی ۱۹۰۵ ء کو ہوئے تھے اور ان کے الفاظ یہ تھے۔(۱) مَارَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ رمی (۲) آه ! نادر شاہ کہاں گیا اول الذکر الہام در حقیقت قرآن کریم کی ایک آیت ہے اور جنگِ بدر کی طرف اشارہ کرتی ہے۔اس جنگ میں مکہ کے تجربہ کار جرنیل اپنی ساری طاقت لے کر باہر نکلے تھے اور ایک ہزار جنگجو سپاہی ان کے ساتھ تھے۔اس کے مقابل پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بہت ہی مختصر لشکر تھا۔یعنی گل تین سو تیرہ آدمی تھے اور ان میں سے بھی اکثر نا تجربہ کار تھے اور بعض کے پاس ہتھیار تک نہ تھے۔پرانی اور گند تلواریں یا شکتہ نیزے ان کا سرمایہ تھا۔سواریاں بھی بہت کم لوگوں کو میتر تھیں جب دونوں لشکر آمنے سامنے ہوئے اور لشکر کفار نے اپنی تعداد اور اپنے تجربہ کی فوقیت کی وجہ سے اسلامی لشکر کو دبانا شروع کیا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خدا تعالیٰ سے دعا کی اور اُس کے حکم پر ایک مٹھی کنکروں کی اُٹھا کر دشمن کی طرف پھینکی یہ گویا