انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 84 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 84

۸۴ انوار العلوم جلد ۱۳ میری ساره بھی پڑھائی جاری رکھی جب کہ ان کی شادی ہو چکی تھی۔ایک طرف بچوں کی پیدائش جو نہایت ضعیف کر دینے والا فعل ہے دوسری طرف ایک جماعت کے امام کی بیوی ہونے کے فرائض کی ادائیگی۔تیسری طرف کم و بیش گھر کے کاموں کا انصرام۔چوتھے خاوند کی خدمت۔اس پر مستزاد ایک ایسی تعلیم جو بالکل فارغ رہنے والے طالب علموں کو بھی گھبرا دیتی ہے۔آٹھ سال وہ شادی کے بعد زندہ رہیں اس آٹھ سال کے عرصہ میں انہوں نے چار امتحان دیئے جن میں سے تین میں وہ کامیاب ہوئیں اور آخری امتحان میں بوجہ تعلیم کا پورا سامان نہ ہونے کے وہ فیل ہوئیں۔اس عرصہ میں پانچ بچے انہوں نے بنے ، دو کو دودھ پلایا ، گھر کے کام کاج اور سلسلہ کے کام کاج میں بھی ایک حد تک حصہ لیا، بچوں کی تربیت بھی کی، اس آٹھ سال میں جو پڑھائی انہوں نے کی وہ سرکاری نصاب میں اٹھارہ سال کی قرار دی گئی ہے گویا اٹھارہ سالہ کورس آٹھ سال میں ختم کیا اور اس کے علاوہ وہ سب ذمہ داریاں ادا کیں جو عام طور پر عورت کی توجہ کو پوری طرح کھینچنے کیلئے کافی سمجھی جاتی ہیں۔میں نے انہیں دیکھا ہے رات کے دردو بجے تک بستر پر لیٹے ہوئے کتاب پڑھتی رہتی تھیں ، نیند بالکل اُڑ گئی تھی، بعض دفعہ کئی کئی دن تک نیند نہیں آتی تھی ، مگر صبر اس قد ر تھا کہ ہفتوں کی تکلیف کے بعد کبھی ایک دفعہ شکایت کرتی تھیں اور وہ بھی اس زور سے نہیں کہ طبیعت میں ملال پیدا ہو۔محض خدا کیلئے حصول تعلیم اس سے بھی زیادہ فرق ان کی تعلیم اور دوسروں کی تعلیم میں یہ تھا کہ دوسری عورتیں اپنے نفس یا اپنی قوم کیلئے تعلیم حاصل کرتی ہیں انہوں نے اپنے آخری سالوں میں محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کیلئے ، اسلام کی خدمت کیلئے تعلیم حاصل کی۔اس لئے اس بوجھ کو اٹھایا کہ جماعت کی مستورات کی دینی اور دنیوی ترقی کیلئے مفید ہوسکیں۔غرض پیدائش اور موت کے علاوہ ان کا سب وقت دوسروں کے فائدہ کیلئے خرچ ہوا۔انہوں نے اپنی زندگی سے ایک ذرہ بھر بھی فائدہ نہیں اُٹھایا۔اس عرصہ میں اپنے بچوں سے عام طور پر جدار ہیں۔حتی کہ عمر کے آخری سال میں بھی ان کے دو بچے ان سے جدا تھے وہ ان کی وفات سے صرف تین دن پہلے واپس آئے۔ان کی طبیعت میں بچوں کی محبت عام عورتوں سے بھی زیادہ تھی ، بچوں کے دُکھ کو دیکھ کر بہت بے تاب ہو جاتی تھیں یکن با وجود ایسے جذبات کے انہوں نے محض تعلیم کیلئے بچوں کی جُدائی کو برداشت کیا۔ان کے سے احساسات رکھنے والی عورت کیلئے یہ ایک عظیم الشان قربانی تھی ، اللہ تعالیٰ اسے قبول فرمائے۔