انوارالعلوم (جلد 13) — Page 54
انوار العلوم جلد ۱۳ ۵۴ صداقت معلوم کرنے کا طریق سے میں خدا کی توجہ سے محروم سہی۔مگر کوئی پادری ہی کہہ دے کہ خدا نے مجھے یہ حق بتایا ہے اگر کسی پادری سے بھی خدا یہ نہیں کہتا تو میں کس طرح مان لوں کہ خدا کے ہونے کی کوئی دلیل ہے۔غرض خدا جو ماں باپ سے بڑھ کر اپنے بندوں پر مہربان ہے، کس طرح ممکن ہے کہ کوئی اس کی طرف جھکے اور وہ اس کی ہدایت کا سامان نہ کرے اسی لئے میں کہتا ہوں یہ ناممکن ہے کہ کوئی سچے دل سے خدا سے التجا کرے اور اس کی سنی نہ جائے۔خدا ضرور سنے گا۔اس طریق پر ہر مذہب کا انسان عمل کر سکتا ہے۔میں خود اس کیلئے تیار ہوں۔باوجود اس کے کہ میں نے خدا تعالیٰ کا کلام سنا، رؤیا دیکھے اور سورج سے بڑھ کر اسلام کی صداقت پر یقین ہے۔پھر بھی میں اس کیلئے تیار ہوں۔کوئی یہ دعوی پیش کرے کہ جس مذہب کو وہ سچا سمجھتا ہے، اس کے متعلق خدا نے اسے بتایا ہے کہ وہ سچا ہے اور اس پر ساری دنیا کو جمع ہونا چاہئے۔کوئی ہندو، کوئی سکھ ، کوئی عیسائی اس دعوی کے ساتھ کھڑا ہوا اور مجھے دعا کرنے کیلئے کہے تو میں تیار ہوں۔بندہ کا کام تو بندگی کرنا ہے۔پس میں آپ صاحبان سے یہ عرض کرتا ہوں کہ جن کو خدا توفیق دے، وہ بچے دل سے۔کریں اور سارے خیالات دل سے نکال کر خدا کے آگے جھکیں اور کہیں ہم ہر طرف سے منقطع ہو کر تجھ سے التجا کرتے ہیں کہ ہمیں ہدایت عطا کر۔اگر اب بھی ہماری دعا نہ سنی گئی تو ذمہ داری ہم پر نہ ہوگی۔اس کے بعد اس طرح دعا کرنے والا کہہ سکتا ہے میں نے دس ہیں دن دعائیں کیں اور سچے دل سے کیں مگر خدا نے میری کوئی راہ نمائی نہ کی ، اس لئے میں معذور ہوں اور جب تک اس کی ہدایت کے کوئی نئے سامان نہ پیدا ہو جائیں ، وہ معذور ہوگا اور اس وجہ سے سزا کا مستحق نہ ہوگا۔یہ ایسی چیز ہے کہ اسے پیش کرتے ہوئے میں سمجھتا ہوں ساری باتیں اس میں آ جاتی ہیں اور مجھے یقین کامل ہے کہ اگر کوئی اس طریق پر عمل کرے گا تو خدا تعالیٰ اسے ضرور ہدایت دے گا۔ایک دفعہ میں پھر آپ صاحبان کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے یہاں آنے کی تکلیف اُٹھائی اور میں امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ایسے سامان کر دے گا کہ ہمارے تعلقات پہلے سے بھی زیادہ خوشگوار ہو جائیں گے۔(الفصل ۱۴۔مارچ ۱۹۳۳ء ) ا در نمین فارسی صفحه ۸ ۷ شائع کردہ نظارت اشاعت و تصنیف ربوه ے پرارتھنا : عرض، درخواست