انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 461 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 461

461 انوار العلوم جلد ۳ زلزلہ کوئٹہ بانی سلسلہ احمدیہ کی سچائی کا نشان ہے اپنی محبت کا پیالہ پلانا چاہتا ہے، اپنے وصال سے متمتع کرنا چاہتا ہے اپنی جنت کے دروازے اس کے لئے کھول دیتا ہے ایک ذلیل کیڑے سے بنے ہوئے انسان کیلئے اپنے فضلوں کی ایک بڑی دعوت کے سامان کرتا ہے اور اپنے پیارے اور مقدس وجود وں کو ان کے بلانے کیلئے بھیجتا ہے لیکن وہ نادان اور غافل مخلوق شیطان اور اس کی ذریت کی آواز کوسن کر خدا تعالیٰ کی دعوت کورڈ کر دیتی ہے، وہ نجاست پر رغبت سے منہ مارتی ہے لیکن پاک غذا کو ہزا ر نفرت کے ساتھ پرے پھینک دیتی ہے، وہ ناک بھوں چڑھا کر منہ پھیر لیتی ہے اور اس یار از لی کی ایک جھلک دیکھنے پر بھی آمادہ نہیں ہوتی۔اے ظالم انسان ! یہ سلسلہ کب تک چلا جائے گا ؟ کب تک جنت کے دروازے تیری انتظار میں کھلے رہیں گے؟ کب تک تو اپنے دشمن شیطان کی مجلس میں بیٹھا اپنے خون کے پیالے پیئے گا اور اپنی روح کو آپ مارے گا ؟ کب تیری آنکھیں کھلیں گی اور تو اپنے محبوب کے ہاتھ سے وہ زندگی بخش جام لیکر پی جائے گا جسے وہ مدتوں سے تیرے لئے اپنے پیارے ہاتھوں میں لئے کھڑا ہے؟ دیکھ ! خدا تعالیٰ نے پھر تجھے بلانے کیلئے اپنا مسیح بھیجا ہے جس کی خبر تمام انبیاء دیتے چلے آئے ہیں۔جس کی نسبت خود اس کے آقا اور سردار تمام انبیاء و اولیاء کے سرتاج حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی تھی کہ کیا ہی مبارک ہے وہ اُمت جس کی ابتدا میں میں اور آخر میں مسیح موعود ہوگا لے مگر اے انسان! تو نے اس کا کس طرح استقبال کیا ؟ کیا محبت کے ہاتھ پھیلا کر یا پتھروں کی بوچھاڑ سے؟ کیا مرحبا کہہ کر یا گالیاں دے کر ؟ اے شریف انسان ! میں تجھ سے پوچھتا ہوں اور خدا تعالیٰ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، اسی خدا کا جس کے ہاتھ میں تیری جان ہے کہ کیا تو نے اس قدر گندی گالیاں اور وہ بد زبانیاں جو اس خدا تعالیٰ کے مامور کے متعلق جائز سمجھی گئی ہیں کبھی کسی اور شخص کے متعلق بھی سنی ہیں؟ پھر کیا ممکن تھا کہ خدا تعالیٰ جو اپنے پیاروں کی سخت غیرت رکھتا ہے خاموش رہتا اور اس بد زبانی کا نتیجہ نہ دکھاتا ؟ اس نے مسیح موعود بانی سلسلہ احمدیہ کی بعثت کی ابتداء میں کہہ دیا تھا:۔دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آورحملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔یہ وہ پُر شوکت الفاظ ہیں جو آج سے قریباً ساٹھ سال پہلے بانی سلسلہ احمدیہ کو اللہ تعالیٰ نے