انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 462 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 462

462 انوار العلوم جلد ۱۳ زلزلہ کوئٹہ بانی سلسلہ احمدیہ کی سچائی کا نشان ہے کہے اور جو اُسی وقت انہوں نے شائع کر دئیے۔اب اے سوچنے والے دل اور سچائی سے محبت رکھنے والی روح! غور تو کر کہ کیا یہ الہام لفظ بہ لفظ پورا ہوا یا نہیں ؟ کیا یہ سچ نہیں کہ دنیا نے مسیح موعود کے دعوئی کو ر ڈ کیا ؟ اور کیا یہ سچ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی تائید میں ہزار ہا قہری نشان دکھائے اُسی طرح جس طرح اُس نے آدم اور نوح اور ابراہیم اور لوط اور موسیٰ اور عیسی علیہم السلام کی تائید میں نشان دکھائے تھے؟ میں اس وقت دوسرے نشانات کا ذکر نہیں کرتا صرف اُس قہری نشان کا ذکر کرتا ہوں جو کوئٹہ کے زلزلہ کی صورت میں ظاہر ہوا ہے جس میں ساٹھ ہزار کے قریب آدمی مر گیا ہے اور کوئٹہ کی آبادی کا قریباً ۸۰ فیصدی حصہ تباہ ہو گیا ہے اور عمارتیں تو قریباً سب ہی تباہ ہو گئی ہیں۔آج تک زلزلہ کے جھٹکے محسوس ہو رہے ہیں اور ۲۰، ۲۵ ہزار کے قریب لاشیں اب تک اس علاقہ میں کفن کے بغیر مٹی کے نیچے سڑ رہی ہیں۔یہ ایسا عبرتناک نظارہ ہے جسے دیکھ کر سنگدل سے سنگدل انسان کا دل بھر آنا چاہئے مگر افسوس کہ اس زمانہ کے لوگ اس سے بھی نصیحت نہیں اُٹھاتے۔پورے اکتیس سال ہوئے بانی سلسلہ احمدیہ کو اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی "عَفَتِ الذِيَارُ مَحَلُّهَا وَ مَقَامُهَا إِنِّى أَحَافِظُ كُلَّ مَنْ فِى الدَّارِ خدا تعالیٰ عنقریب دنیا پر ایک تباہی لائے گا وہ تباہی ایسی ہوگی کہ اس سے اُن علاقوں کی عمارتیں بھی گر جائیں گی جہاں لوگ عارضی طور پر سیر و تفریح کے لئے جاتے ہیں اور اُن علاقوں کی عمارتیں بھی جہاں لوگ مستقل رہائش کے طور پر رہتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ اس آفت کے وقت اُن لوگوں کو جو تیرے گھر میں رہتے ہیں محفوظ رکھے گا۔(۸۔جون ۱۹۰۴ ء ) اس الہام کا پہلا حصہ یکم مئی کو بھی بطور الہام نازل ہوا تھا اور یہ دونوں الہام اُسی وقت بانی سلسلہ احمدیہ نے شائع کر دیئے تھے۔اس کے قریباً ایک سال کے بعد ۴۔اپریل ۱۹۰۵ء کو کانگڑہ کا وہ شدید زلزلہ آیا جس میں ۲۵ ہزار کے قریب آدمی مر گئے اور جو زخمی ہوئے اُن کی تو کوئی گنتی ہی نہیں۔اب اے خدا سے خوف رکھنے والے لوگو! ذرا غور تو کرو کہ یہ نشان کیسا واضح تھا۔اس الہام میں صاف بتا یا گیا تھا کہ :۔(۱) زلزلہ آئے گا۔کیونکہ زلزلہ ہی ایک ایسی چیز ہے جس سے علاقہ کے علاقہ کی عمارتیں گر جائیں۔(۲) وہ ایسی جگہ آئے گا جو لوگوں کے لئے سیر گاہ ہوگی اور لوگ وہاں سیر کے لئے جایا کرتے ہونگے۔اب دیکھ لو کہ ڈلہوزی دھرم سالہ پالم پور وغیرہ کا علاقہ ایسا ہے کہ اس کی اکثر