انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 351 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 351

351 انوار العلوم جلد ۱۳ افتتاحی تقریر جلسه سالانه ۱۹۳۴ء زیادہ ہے اور حنفیوں کی تعداد تو زیادہ ہے ہی، پھر ہندؤوں کی تعداد بہت زیادہ ہے گویا ہر فرقہ کی تعداد زیادہ ہے پھر باوجود اس کے کہ کسی فرقہ کی ایسی مخالفت نہیں کی جا رہی ہے جیسی جماعت احمد یہ کی کی گئی اور کی جارہی ہے مگر باوجود اس کے جماعت احمد یہ بڑھتی گئی، بڑھتی جا رہی ہے اور بڑھتی جائے گی۔میں اپنے الفاظ میں نہیں کہتا کہ اسے کمر اور تکبر سمجھا جائے۔میں خدا تعالیٰ کے ہی الفاظ دُوہراتا ہوں کہ ان کا بیان کرنا کبر نہیں بلکہ ان کا چھپا نا منافقت ہے کہ میں وثوق اور یقین کے ساتھ اس سے بھی زیادہ وثوق اور یقین کے ساتھ جو مجھے اس بات پر ہے کہ میں انسان ہوں کہتا ہوں اور اُن تک پہنچاتا ہوں جنہوں نے جماعت احمدیہ کو مٹانے کا بیڑا اٹھایا ہے کہ وہ اور اُن کی اولادیں، پھر اُن کی اولادیں، اُن کے تمام دوست اُن کے تمام جتھے اور وہ تمام طاقتیں جو شیطان سے مؤید ہیں اور وہ تمام حکومتیں جو دنیا میں قائم ہیں، سب کی سب مل کر بھی اگر سلسلہ عالیہ احمدیہ کو مٹانے میں کامیاب ہو جائیں تو یہ سلسلہ جھوٹا ہوگا۔مگر میں بتا چکا ہوں شیطان اپنے سارے لاؤلشکر سمیت حملہ کر کے دیکھ لے گا یہ سلسلہ بڑھے گا، بڑھے گا اور ضرور بڑھے گا، یہاں تک کہ وہ جو مٹانے کیلئے کھڑے ہوئے ہیں وہ خود مٹ جائیں گے اور دنیا دیکھ لے گی کہ دنیا کی ہر بستی قادیان کی مظہر بن جائے گی یعنی دنیا کی ہر بستی میں احمدیوں کی حکومت ہوگی اور دوسروں کے مقابلہ میں ان کی تعداد زیادہ ہوگی۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ خدا نے مجھے بتایا ہے کہ یہ جماعت بڑھتی جائے گی حتی کہ وہ لوگ جو جماعت سے الگ رہیں گئے اُن کی وہی حالت ہو جائے گی جو سائنسیوں وغیرہ کی آجکل ہے۔خدا تعالیٰ کا یہ فرمودہ پورا ہوکر رہے گا۔احمدیت کو مٹانے والے اپنا پورا زور لگالیں۔بے شک ہم کمزور ہیں، ہم قلیل التعداد ہیں، ہم بے سروسامان ہیں، مگر یہ ترقی ہونے والی ہے جسے کوئی روک نہیں سکتا اور یہ ہوکر رہے گی کیونکہ:۔قضائے آسمان است ایں بہر حالت شود پیدا پس اے دوستو ! ہمارا کام صرف اتنا ہی ہے جیسے چلتی گاڑی کو ہاتھ لگا کر یہ سمجھ لیا جائے کہ ہم اس گاڑی کو چلا رہے ہیں، حالانکہ گاڑی انجن چلا رہا ہوتا ہے۔ہماری گاڑی کا انجن ، ڈرائیور اور گارڈ خدا ہے یہ گاڑی اُسی کی طاقت سے چلی اُسی کی حفاظت میں چل رہی ہے اور اسی کے چلانے سے چل سکتی ہے اور جس گاڑی کا انجن، گارڈ اور ڈرائیور خدا ہو اس کے لئے کونسا خطرہ ہو سکتا ہے۔ہمارے لئے تو مفت کا اجر ہے کہ ہمارے متعلق سمجھا جاتا ہے دین کی خدمت کر رہے ہیں حالانکہ ہم کچھ نہیں کرتے۔سب کچھ خدا تعالیٰ ہی کر رہا ہے اُسی نے کرنا ہے اور وہی کرے