انوارالعلوم (جلد 13) — Page 334
334 انوار العلوم جلد ۱۳ سردار کھڑک سنگھ اور ان کے ہمراہیوں کو دعوت حق کر رہا تھا، اُس وقت اپنے پاس سے دوائیں دیکر اور اطباء اور ڈاکٹروں کو فارغ کر کے ان کے علاج کے لئے چھ چھ سات سات میل تک باہر بھجوایا یا نہیں ؟ اور یہ بھی ان سے پوچھیئے کہ کوئی ایسے سکھ طالب علم انہیں معلوم ہیں یا نہیں جن کی تعلیم کے لئے میں نے مدد کی۔اور کوئی ایسے سکھ خاندان ہیں یا نہیں جنہوں نے اپنی مشکلات میں میری طرف رجوع کیا اور میں نے ہر ایک طرح اُن کی امداد کی۔دور کیوں جاتے ہیں اسی علاقہ کے رئیس خاندان سے جہاں آپ کا جلسہ ہو رہا ہے پوچھیں کہ کیا بعض سکھ خاندانوں کے اختلاف کے وقت میں نے انہیں تباہی سے بچانے کیلئے با ہمی سمجھوتے کرائے یا نہیں ؟ ان کی خاندانی وجاہتوں کے خطرہ میں پڑنے کے وقت ان کا پوری طرح ساتھ دیا یا نہیں ؟ سردار صاحب! اگر ان باتوں کا جواب آپ کو اثبات میں ملے تو ذرا سوچیں کہ کیا دشمن ایسے ہی ہوتے ہیں۔کیا ظالم اسی قسم کے کام کیا کرتے ہیں۔یادرکھیں کہ حقیقت چُھپ نہیں سکتی آپ بے شک آج مجھے اور میری جماعت کو ظالم کہہ کر چلے جاویں لیکن یا درکھیں کہ نقصان آپ کا ہی ہوگا میرا نہیں کیونکہ آپ کے جانے کے بعد جب لوگ ٹھنڈے دل سے میرے سلوک پر غور کریں گے۔جب وہ دیکھیں گے کہ ایک شخص جو ان کا خیر خواہ ہے اور ان سے محبت کرتا ہے، آپ اسے ظالم اور بدخواہ قرار دے گئے ہیں تو وہ حیرت میں پڑ جائیں گے اور ان کے دل کہہ اُٹھیں گے کہ ہمارے ایک ایسے لیڈر نے جسے ہم اپنا خیر خواہ سمجھتے تھے ہم سے دشمنی کی اور ہم میں اور ہمارے خیر خواہوں میں لڑائی ڈالنے کی کوشش کی۔مگر میں سمجھتا ہوں کہ آپ کو دھوکا دیا گیا ہے اور بعض شریروں نے آپ کو غلط اطلاعات دی ہیں۔ورنہ مجھے اس وقت تک یہی یقین ہے کہ جب حق کھل جائے گا تو آپ اپنی غلطی پر ندامت کا اظہار کریں گے اور اپنے الفاظ کو واپس لیں گے۔سردار صاحب ! دوسری بات آپ نے یہ کہی ہے کہ یہ ظلم انگریزی حکومت کروا رہی ہے اور یہ کہ آپ اس حکومت کو سمندر پار نکال دیں گے۔اگر یہ روایت درست ہے اور آپ نے ایسا ہی کہا ہے تو میں کہوں گا کہ اس بات کے کہنے سے آپ نے اپنی زبر دست کمزوری کا اظہار کیا ہے۔سردار صاحب! اگر واقعہ میں انگریز ایسے ہی بُرے ہیں اور اگر واقعہ میں آپ کو یہ طاقت حاصل ہے کہ آپ جب چاہیں، انہیں پکڑ کر باہر نکال دیں تو آپ اپنی قوم اور اپنے ملک پر اس قدر ظلم کیوں کر رہے ہیں انگریزوں کو پکڑ کر باہر نکال دیجئے۔جلسوں میں اس قسم کی تقریروں سے