انوارالعلوم (جلد 13) — Page 289
289 انوار العلوم جلد ۱۳ تحقیق حق کا صحیح طریق میں نے دس کا وعدہ ان سے کیا ہے۔یہ سن کر مولوی محمد حسین صاحب سخت ناراض ہوئے اور کہنے لگے جاہل ! لوگوں کو کس نے کہا ہے کہ مذہبی معاملات میں دخل دیں۔میں دو ماہ کی بحث کے بعد انہیں حدیث کی طرف لا رہا تھا، یہ پھر قرآن کی طرف لے گئے۔اب ان کا ایمان دیکھو۔یہ سن کر وہ کہنے لگے تو کیا قرآن آپ کے ساتھ نہیں اگر ایسا ہی ہے تو جدھر قرآن ہے اُدھر ہی ہم ہوں گے۔ایسے نمونے اب بھی موجود ہیں۔مومن صرف یہ دیکھتا ہے کہ آنے والی آواز خدا کی طرف سے ہے یا نہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صداقت کی یہ شہادت سب غیر مسلموں کیلئے ہو سکتی ہے۔آپ کے دعوی کے بعد سینکڑوں ہزاروں آپ کے دشمن کھڑے ہو گئے تھے اور مشہور ہے ”دشمن بات کہے انہونی مگر کسی نے یہ نہیں کہا کہ آپ کی دعویٰ سے پہلے کی زندگی پر کوئی حرف گیری ہو سکتی ہے اور سوچنے کی بات ہے جب ایک شخص رات کو اس حالت میں سوئے کہ اس نے کبھی انسانوں کے متعلق بھی جھوٹ نہ بولا ہو تو یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ صبح کو وہ اُٹھے اور خدا پر جھوٹ بولنے لگ جائے۔یہی دلیل حضرت مرزا صاحب پر بھی چسپاں ہو سکتی ہے آپ بھی خدا کی طرف سے پینہ پر ہیں۔آپ کا بھی الہام ہے۔وَلَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمُراً مِّنْ قَبْلِهِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ ) اور یہ ایک مستقل الہام ہے کیونکہ قرآن کریم میں فقد ہے اور یہاں وَلَقَد ہے۔بعض لوگ غلطی سے اعتراض کرتے ہیں کہ قرآن کریم کی آیت کو غلط طور پر لکھ دیا ہے۔حالانکہ آپ کا یہ مستقل الہام ہے۔ہمیں اب دیکھنا یہ چاہئے کہ حضرت مرزا صاحب کے دعوی سے قبل لوگ آپ کے متعلق کیا کہتے تھے۔مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری روئے زمین پر اپنے آپ کو اس وقت سب سے بڑا مخالف سمجھتے ہیں۔مگر وہ بھی یہ کہتے ہیں کہ مرزا صاحب دعویٰ سے پہلے بہت نیک تھے۔حتی کہ ایک دفعہ آپ کی زیارت کیلئے پیدل چل کر قادیان آئے۔دوسرے مخالف مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی تھے جنہوں نے دعوئی کے بعد آپ کے متعلق کفر کا فتویٰ شہر بہ شہر پھر کر تیار کرایا۔مگر وہ بھی آپ کی مشہور تصنیف براہین احمدیہ پر ریویو کرتے ہوئے لکھتے ہیں:۔یہ کتاب اس زمانہ میں موجودہ حالت کی نظر سے ایسی کتاب ہے جس کی نظیر آج تک اسلام میں تألیف نہیں ہوئی اور آئندہ کی خبر نہیں لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذلِكَ أَمْرًا کہ اس کا مؤلف بھی اسلام کی مالی و جانی و قلمی و لسانی و حالی و قالی نصرت میں ایسا ثابت قدم نکلا ہے جس کی نظیر پہلے مسلمانوں میں بہت ہی کم پائی گئی ہے A۔۔