انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 254 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 254

انوار العلوم جلد ۱۳ ۲۵۴ احمدیت کے اصول کے رستہ میں رکاوٹوں کا مقابلہ کرو تو یہ بھی حکم ہوا کہ دین کے رستہ میں رکا وٹیں پیدا نہ کرو اس لئے دونوں حکم ایک دوسرے کے مؤید ہیں۔لیکن چونکہ یہ اصول بنالیا گیا تھا کہ جو بات سمجھ میں نہ آئے اسے منسوخ قرار دے دیا جائے اس لئے یہ آیت بھی منسوخ سمجھی جاتی تھی۔اسی طرح اور بھی بہت سی آیات منسوخ خیال کی جاتی تھیں۔بعض پانچ صد بعض چار سو اور بعض کم و بیش آیات کو منسوخ سمجھتے تھے اور جو زیادہ عقلمند تھے وہ صرف پانچ ہی منسوخ قرار دیتے تھے۔مگر حضرت مرزا صاحب نے آ کر بتایا کہ جب پانسو میں سے سوائے پانچ کے باقی سب حل ہو گئیں تو کیوں نہ سمجھ لیا جائے کہ انہیں حل کرنے والا کوئی آجائے گا اور ان کے حل سے کیوں مایوس ہوں۔یہ چیز تھی جسے حضرت مرزا صاحب نے پیش کیا اور ایسا قرآن سکھایا کہ دنیا کی کوئی قوم قرآن کریم کے متعلق ہمارا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ساری دنیا کو چیلنج میں ساری دنیا کو پینج دیتا ہوں کہ کوئی ایک آیت قرآن کریم کی پیش کی جائے جو حکمت سے خالی ہو اور جس کے متعلق کہا جا سکے کہ وہ اس زمانہ میں قابل عمل نہیں۔میں خدا کے فضل سے ثابت کر دوں گا کہ اس میں ایسی خوبیاں ہیں جو دوسری الہامی کتابوں میں نہیں وَيُعَلِّمُهُمُ الكِتب کے معنی ہی یہ ہیں کہ وہ کامل کتاب سکھائے گا اور یہ اس لئے فرمایا کہ دوسری کتابیں بھی ہیں جو ایسی کامل نہیں۔پھر مسلمانوں میں ایک خیال یہ بھی مسلمانوں کی ایک اور غلطی کی اصلاح تھا کہ سوائے قرآن کریم کے باقی سب کتابوں میں جھوٹ اور فریب ہے۔مگر حضرت مرزا صاحب نے آکر بتایا کہ اس کامل کتاب سے پہلے بھی لوگوں کو رہنمائی کی ضرورت تھی۔اگر یہ تسلیم کیا جائے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے بھی انسان تھے جو دل و دماغ رکھتے تھے ان کے اندر قرب الہی کی خواہش تھی تو ماننا پڑے گا کہ وہ اس بات کے بھی مستحق تھے کہ خدا کا کلام ان کے لئے آئے۔اگر یہ صحیح ہے کہ وہ خدا کی مخلوق تھے تو یہ بھی صحیح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں سکھانے کیلئے کوئی تعلیم بھی دی ہوگی اور نبی بھی بھیجے ہو نگے۔مگر مسلمان دنیا کی سب اقوام کے انبیاء کو جھوٹے سمجھتے تھے۔اِلَّا مَا شَاءَ اللهُ - سوائے ان مخلص بندوں کے جو ہر زمانہ میں صحیح اسلام کے جھنڈے کو کھڑا رکھتے چلے آئے ہیں۔یہاں تک کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آ کر یہ بات پیش کی کہ میں رام چندر اور کرشن جی کی بھی عزت کرتا ہوں اور انہیں خدا کے برگزیدہ انسان سمجھتا ہوں۔تو آپ پر کفر کے