انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 250 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 250

انوار العلوم جلد ۱۳ ۲۵۰ احمدیت کے اصول کا ثبوت کیا ہے۔میں نے کہا۔لمبی باتوں کا فائدہ نہیں، وقت بھی اس وقت تنگ تھا، ایک چھوٹی سی بات ہے۔اسلام نے مجھے اپنی صداقت کے متعلق یقین دیا ہے۔کہنے لگے کیا آپ سمجھتے ہیں مجھے اپنے مذہب پر یقین نہیں۔میں نے کہا جیسا یقین آپ کو ہے ایسا تو ہر عیسائی موسائی غرضیکہ تمام مذاہب کے ماننے والوں کو ہے۔ایک عیسائی پادری کسی علاقہ میں مارا جاتا ہے تو ہزار ہا عیسائی لوگ اس کی جگہ لینے کیلئے تیار ہو جاتے ہیں۔بعض تبلیغ کرنے والی عیسائی عورتوں کو مردم خور لوگوں نے کھا لیا تو ان کی جگہ لینے کیلئے ہزار ہا اور نے اپنے نام پیش کر دیئے۔یہ عملی ثبوت ہے اس بات کا کہ ان کو عیسائیت کے سچا ہونے کا یقین ہے۔کہنے لگے پھر آپ یقین کسے کہتے ہیں۔میں نے کہا میں اپنے بیوی بچوں کو ساتھ لے کر یہ قسم کھاتا ہوں کہ اے خدا! اگر اسلام تیراند ہب نہیں اور قرآن تیری طرف سے نہیں تو ہم سب کو ہمیشہ کے لئے ہدایت سے محروم کر دے اور ہم پر اپنا غضب نازل کر۔آپ بھی اپنے مذہب کے متعلق ایسی قسم کھائیں۔کہنے لگے بیوی بچوں کو کیوں شامل کیا جائے۔میں نے کہا جس گولی نے لگنا نہیں اس سے ڈر کیسا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو شک ہے اور حقیقت بھی یہی ہے۔ایمان کے کئی مدارج ہوتے ہیں اور مشاہدہ ایسے مقام پر پہنچا دیتا ہے کہ کسی قسم کا شک باقی نہیں رہتا۔جو انسان سورج کو دیکھ رہا ہو اسے خواہ پانچ سو ایسی گھڑیاں اکٹھی کر کے جو ۲۴ گھنٹے کا وقت بتاتی ہیں، یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جائے کہ اس وقت رات ہے تو وہ کسی طرح نہیں مان سکتا۔کہتے ہیں کسی کی دکان میں چور گھس گیا اس نے باہر سے کنڈی لگا دی۔چور نے میاؤں میاؤں کرنا شروع کیا کہ بلی سمجھ کر دروازہ کھول دے اور میں نکل جاؤں۔وہ کہنے لگا۔میں صبح پہنچوں کو بلاؤں گا اگر وہ کہیں گے کہ بلی ہے تو چھوڑ دوں گا اس وقت نہیں چھوڑ سکتا۔تو جس چیز کو انسان خود دیکھ لے اس کے متعلق کس طرح شک کر سکتا ہے۔اسی طرح جس نے خدا کا مشاہدہ کیا ہوا گر دنیا کے سارے بادشاہ اور حکومتیں مل کر بھی اس کے دل سے خدا کے متعلق ایمان نکالنا چاہیں اور اس کے لئے سب تدابیر اختیار کریں تو کیا وہ ان کی بات مان لے گا، ہر گز نہیں، وہ یہی کہے گا کہ یہ سب پاگل ہیں۔اپنے ایمان میں اسے کوئی شبہ نہ ہوگا اور اس چیز کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آ کر پیش کیا ہے۔دوسری چیز پاک کرنا ہے۔یہ کام بھی محض حضرت مسیح موعود اور تزکیہ نفوس تعلیم سے نہیں ہوسکتا اللہ تعالی کی مد سے ہی ہوسکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ یہ کام بھی فلاسفر نہیں کر سکتے۔جیسے کہ بوعلی سینا کی مثال میں نے دی