انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 231 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 231

انوار العلوم جلد ۱۳ اہم اور ضروری امور چاہتا ہوں کہ ہمارے ملک میں کچھ سیاسی تغیرات ہونے والے ہیں اور ایک نئی سکیم جاری ہونے والی ہے۔ہماری جماعت کو اس کے متعلق بھی کام کرنے کا موقع ملا ہے میں نے ایک کتاب لکھی تھی گو عام طور پر لوگ ہماری کتابوں کو اتنا نہیں پڑھتے مگر اس کتاب کو خاص طور پر پڑھا گیا ہے۔ایک والی ریاست کی لائبریری میں یہ کتاب دیکھی گئی جس پر اُس نے نوٹ لکھے ہوئے تھے۔اور بھی کئی لیڈروں نے اُسے پڑھا اور اب لوگ سمٹ سمٹا کر انہی باتوں کی طرف آ رہے ہیں جو میں نے اس کتاب میں لکھی تھیں۔ہمارے لنڈن مشن نے بھی نئی سکیم کے متعلق بہت کام کیا ہے اور سب سے زیادہ کام کرنے کا موقع چودھری ظفر اللہ خان صاحب کو ملا ہے جنہوں نے ایک لمبا عرصہ اس کام میں صرف کیا ہے۔ہماری اس کام کی وجہ سے بھی مخالفت ہو رہی ہے مگر ہمیں مخالفت کی پرواہ نہیں کرنی چاہیئے۔یہ کام سوشل ریفارم کہلا سکتا ہے سیاسی کام نہیں ہے۔آج کل کی سیاست یہ ہوتی ہے کہ حکومت کے مقابلہ میں نیا نظام قائم کرنا اور حکومت کو تنگ کرنا۔ان معنوں میں آج کل سیاست کا لفظ استعمال ہوتا ہے اس قسم کی سیاست میں ہم حصہ نہیں لیتے کیونکہ ہمارا مذہبی عقیدہ ہے کہ حکومت کی مخالفت نہیں کرنی چاہیے اور اس سے حتی الوسع تعاون کرنا چاہیئے۔بہر حال ہماری مخالفت ہو رہی ہے اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ مخالفت سیاسی کاموں میں حصہ لینے کی وجہ سے ہے۔بے شک ہماری مخالفت کی جارہی ہے مگر مذکورہ بالا وجہ سے نہیں بلکہ اس لئے کہ سیاست میں دیانت دار لوگ کیوں حصہ لینے لگے ہیں۔لوگوں نے اپنی اغراض کی خاطر اپنی اپنی پارٹیاں بنائی ہوئی تھیں اب جو دیانت دار لوگ ہیں وہ چاہتے ہیں کہ ہمارے آدمی بھی ملکی معاملات میں شامل ہوں اس پر خود غرض لوگ ہماری مخالفت کرتے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ عام لوگوں کے نزدیک سیاست کا مفہوم یہ ہے کہ دل میں کچھ ہوا اور ظاہر کچھ کیا جائے اپنے ذاتی اغراض کو مد نظر رکھ کر کہا کچھ جائے اور کیا کچھ جائے۔اس قسم کی سیاست میں حصہ لینے سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے روکا ہے اور ایسی سیاست ہمیشہ نا جائز ہے مگر ملک کی خدمت کرنا اور اپنے حقوق کی حفاظت کرنا ہمارا فرض ہے اور یہ کام جاری رہے گا۔چونکہ اب سورج کے ڈوبنے میں صرف چند منٹ باقی ہیں۔اس لئے میں اور امور کو چھوڑ کر صرف ایک سوال لے لیتا ہوں جو تعلیم و تربیت کے متعلق ہے اور نہایت ضروری سوال ہے اور اس سے پہلے میں تعلیم کے سوال کو لیتا ہوں۔میری ایک بیوی اس سال فوت ہو گئی ہیں۔اس موقع پر جماعت نے جس ہمدردانہ اور مخلصانہ مواسات کا اظہار کیا اس کا میں شکر یہ ادا کرتا ہوں مگر اس