انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 230 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 230

۲۳۰ انوار العلوم جلد ۱۳ اہم اور ضروری امور سنگین پیش کر دیا اور ان کے بچہ کو بھی اللہ تعالیٰ نے محفوظ رکھا۔غرض یہ ایک نمونہ ہے کہ قتل جیے مقدمہ میں صداقت کو ہاتھ سے نہ دیا گیا۔احمدیوں کو ہر موقع پر ایسا ہی نمونہ دکھانا چاہیئے۔یہاں بعض اوقات جھگڑے ہو جاتے ہیں۔میں نوجوانوں سے کہتا ہوں کہ انہیں کسی سے جھگڑا نہیں کرنا چاہیئے لیکن اگر جھگڑا ہو جائے تو پھر جو سچ سچ بات ہو اس کا سامنے آ کر اعتراف کرنا چاہیئے۔تحدیث نعمت کے طور پر ایک تازہ واقعہ بیان کرتا ہوں۔ابھی تھوڑا ہی عرصہ ہوا ہے چودھری ظفر اللہ خان صاحب کے ایک عزیز کے متعلق قتل کا کیس چلا تھا۔ولایت سے چودھری صاحب نے مجھے خط لکھا مجھے اطلاع پہنچی ہے کہ میرے بھائی پر قتل کا مقدمہ بن گیا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ ہمارے لئے آزمائش کا وقت ہے۔میں نے اپنے بھائی کو لکھ دیا ہے کہ وہ اپنی جان کی پرواہ نہ کرے اسے بچی کچی بات کہہ دینی چاہیئے۔یہ وہ روح ہے جو ساری جماعت میں ہونی چاہیئے تا کہ دشمن سے دشمن کو بھی اقرار کرنا پڑے کہ یہ جماعت صداقت کی ایسی پابند ہے کہ اس کے مقابلہ میں کسی چیز کی پرواہ نہیں کرتی۔مسلمانان شمیر کیلئے چندہ وقت چونکہ کم ہے اس لئے میں تفصیل کے ساتھ تو نہیں بیان کر سکتا البتہ اختصار سے یہ بات کہہ دینا چاہتا ہوں کہ کشمیر کے کام کے متعلق معلوم ہوتا ہے جماع کو یہ غلطی لگی ہے کہ وہ ختم ہو گیا ہے حالانکہ وہ ختم نہیں ہوا بلکہ جاری ہے۔مسلمانانِ کشمیر کے متعلق رفاہ عام کے کام جاری ہیں، پھر کچھ تنظیم کا کام بھی ہم کرتے رہے ہیں، وہ بھی جاری ہے اور جاری رہنا چاہیئے کیونکہ اگر جاری نہ رہا تو اس وقت تک ہم نے جو کام کیا ہے وہ ادھورا رہ جائے گا۔لیکن یہ بات مومن کی شان کے شایاں نہیں کہ جس کام کو وہ شروع کرے اُسے ادھورا چھوڑ دے۔پس وہ لوگ غلطی میں مبتلا ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ کشیمر کے متعلق ہمارا کام ختم ہو گیا ہے۔کام اب بھی ہو رہا ہے ہاں اس خیال سے کہ دوسری کمیٹی سے تصادم نہ ہو کام آہستہ ہورہا ہے۔پھر پچھلے قرضے بھی ہیں اِن کا ادا کرنا بھی ضروری ہے۔پس کشمیر کے لئے چندہ جو نہایت قلیل ہے یعنی ایک پائی ٹی روپیہ وہ ضرور ادا کرنا چاہیئے اور دوسرے مسلمانوں کو بھی اس میں شریک کرنا چاہئے۔ان سے مسلمانانِ کشمیر کی امداد کے لئے چندہ وصول کرنا چاہیئے۔ہندوستان میں سیاسی تغییرات اور جماعت احمدیہ ایک اور اہم بات میں یہ کہنا