انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 21 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 21

۲۱ انوار العلوم جلد ۱۳ دنیا میں سچاند ہب صرف اسلام ہی ہے سامنے بیان کیا گیا جو اس کی پوری حقیقت کو سمجھنے کی قابلیت بھی نہیں رکھتے تھے بلکہ اس زمانہ میں جاری ہوا جس کے ایک ہزار سال بعد سخت جد و جہد سے علوم دنیوی اس مقام پر پہنچے جہاں سے وہ اس حکمت کی صرف شبیہہ دیکھنے کے قابل ہو سکے۔عرب موت کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتا تھا اور اس کی جنگی اور آزاد زندگی اسے بیماریوں سے بچائے رکھتی تھی۔پس علم طب اس کی نظروں سے پوشیدہ تھا اور اس علم سے صرف چند نسخے جو عورتیں سینہ بسینہ یا درکھتی چلی آتی تھیں، اس کے حصہ میں آئے تھے اور اگر باوجود اس کی جنگی زندگی کے وہ بیمار ہوتا تو وہ اسے دیوتاؤں کا غضب سمجھ کر یا ستاروں کا اثر خیال کر کے شفا سے مایوس ہو جاتا تھا اور اسے پیغام اجل سمجھ کر اپنی قسمت پر قناعت کرتے ہوئے ہر قسم کی جد و جہد کو ترک کر دیتا تھا۔اس کے دائیں طرف ہند وستان اور ایران اور اُس زمانہ کے حالات کے مطابق علم طب کے اچھے خاصے علم بردار تھے اور بائیں طرف یونانی مگر وہ ان کے بیچ میں رہ کر بھی اس علم سے بالکل کو را تھا۔اس جماعت کا ایک فرد آج سے تیرہ سو سال پہلے کہتا ہے کہ لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ إِلَّا الْمَوت ہر ایک مرض خواہ کوئی ہو، اس کا علاج اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے پس انسان ہر مرض کے صدمہ سے بیچ سکتا ہے لیکن اگر وہ یہ چاہے کہ اس طرح وہ مرضوں سے بچ کر موت سے بچ جائے تو وہ ایسا نہیں کر سکتا۔کیا اس تعلیم کی نسبت یہ خیال کیا جاسکتا ہے کہ وہ عرب کے حالات سے متولد ہوئی تھی۔عرب تو بیچارے طب سے بالکل ہی ناواقف تھے۔خود یونانی جنہوں نے علم طب کو ترقی دیتے دیتے کمال تک پہنچا دیا تھا، سینکڑوں بیماروں کو لا علاج قرار دیتے تھے۔پھر کیا اس تعلیم کو اُس زمانہ کے رسول کریم ﷺ کی راہنمائی کا اثر حالات سے متولد قرار دیا جا سکتا ہے جب کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے اس حقیقت کے اظہار کے بعد بھی سینکڑوں سال تک دنیا اس تعلیم کی حقیقت نہیں سمجھی اور اٹھارھویں صدی عیسوی تک تمام اقسام طب بیسیوں امراض کو لا علاج خیال کرتی رہیں۔نہیں اور یقیناً نہیں کیونکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر اس حکمت کے جاری ہونے کے گیارہ سو سال بعد جا کر دنیا کو اپنی غلطی پر کسی قدرتنبیہہ ہوئی اور دوسو سال کی لمبی جدوجہد کے بعد وہ آج اس نتیجہ پر پہنچی ہے کہ ہر ایک مرض کا علاج موجود ہے اور جن امراض کا علاج اس وقت تک نہیں بھی معلوم ہو سکا ، ان کو بھی ہم معلوم کر لیں گے کیونکہ یکے بعد دیگرے ہمارے اس خیال کی کہ فلاں اور فلاں امراض لا علاج ہیں نیچر تر دید