انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 166 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 166

انوار العلوم جلد ۱۳ رحمة للعالمين سے منور اور جن کے سینے تیری محبت کے پھولوں سے رشک صد مرغزار بن رہے ہیں۔آہ میں کس طرح مانوں کہ تو بھی بنیوں کی طرح یہ دیکھتا ہے کہ کس کی تھیلی میں کیا ہے اور یہ نہیں دیکھتا کہ کسی کے دل میں کیا ہے۔مگر میرے خیالات کی رو کو پھر اسی عقدہ کشا آواز نے روک دیا وہ ناز و رعنائی سے بلند ہوئی۔اس ناز سے کہ کسی معشوق کو کب نصیب ہوا ہو گا ، اس شان سے کہ کسی بادشاہ کو خواب میں بھی حاصل نہ ہوئی ہوگی اور اس نے کہا کہ اے کام کرنے والو۔اے خدا کی راہ میں جانیں قربان کرنے والو! مت خیال کرو کہ خدا کے حضور میں تم ہی مقبول ہو اور اس کے انعامات کے تم ہی وارث ہو یا د رکھو کہ کچھ تمہارے ایسے بھائی بھی ہیں کہ جو بظاہر ان عمل کی وادیوں کو نہیں طے کر رہے جن کو تم طے کر رہے ہو ، ان کٹھن منزلوں میں سے نہیں گزر رہے جن میں سے تم گزار رہے ہو۔لیکن پھر بھی وہ تمہارے ساتھ ہیں۔تمہارے شریک ہیں، تمہارے ثوابوں کے حصہ دار ہیں۔اور خدا تعالیٰ کے ایسے ہی مقرب ہیں جیسے کہ تم۔میں نے دیکھا نیکوکاروں کی وادی میں ایک عظیم الشان ہلچل پیدا ہوئی اور سب بے اختیار چلا اٹھے کہ کیوں ایسا کیوں ہے؟ اس مقدس آواز نے جواب دیا اس لئے کہ گوان کے ہاتھ پاؤں بوجہ خدا تعالیٰ کی پیدا کردہ معذوریوں کے تمہارے ساتھ شامل ہونے کی اجازت نہیں دیتے مگر ان کے دل تمہارے ساتھ ہیں۔جب تم عمل کی لذتوں سے مسرور ہور ہے ہوتے ہو وہ غم اور حرمان کے تلخ پیالے پی رہے ہوتے ہیں۔بے شک جام مختلف ہیں، بے شک شراب جداجدا ہے لیکن کیف میں کوئی فرق نہیں نتیجہ ایک ہی ہے تم جس مقام کو پاؤں سے چل کر پہنچتے ہو وہ دل کے پروں سے اڑ کر جا پہنچتے ہیں۔ان کو نا پاک مت کہو جو ان سے نیک ہیں وہ تم میں سے پاکیزگی میں کم نہیں۔میری روح وجد میں آگئی میرا دل خوشی سے ناچنے لگا میں نے کہا صَدَقْتَ يَا رَسُولَ اللهِ انصاف اس کا نام ہے، عدل اس کو کہتے ہیں میرے دل سے پھر ایک آہ نکل گئی اور میں نے کہا طاقت ور کے ساتھی تو سب ہوتے ہیں مگر یہ آواز معذوروں کیلئے بھی رحمت ثابت ہوئی۔میں کہاں کہاں تم کو اپنے ساتھ لئے پھروں میں نے آئندہ نسلوں کیلئے رحمت اس عالم خیال میں بیسیوں اور مقامات کی سیر کی لیکن اگر میں ان کیفیات کو بیان کروں تو یہ مضمون بہت لمبا ہو جائے گا اس لئے میں اب صرف ایک اور نظارہ کو بیان کر کے اس مضمون کو ختم کرتا ہوں۔میرے دل میں خیال آیا کہ یہ غیبی آواز ماضی کیلئے بھی رحمت ثابت ہوئی اور حال کے لئے بھی مگر اس کا معاملہ مستقبل کے ساتھ کیسا ہے۔