انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 151 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 151

انوار العلوم جلد ۱۳ ۱۵۱ رحمة للعالمين بعض باتوں میں ورثہ ہے اور بعض میں ورثہ نہیں اور جہاں ورثہ ہے وہاں بھی خدا تعالیٰ نے ورثہ سے بچنے کے سامان پیدا کئے ہیں۔اگر ورثہ سے بچنے کے سامان نہ ہوتے تو تبلیغ اور تعلیم کا مقصد کیا رہ جاتا ؟ کافروں کے بچوں کا ایمان لے آنا بتاتا ہے کہ ایمان کے معاملہ میں خدا تعالیٰ نے ورثہ کا قانون جاری نہیں کیا۔اگر اس میں بھی ورثہ کا قانون جاری ہوتا۔تو مسیح کی آمد ہی بے کار جاتی۔اس نے کہا کہ خدا تعالیٰ نے انسان کو نیک طاقتیں دے کر پیدا کیا ہے پھر بعض انسان ان حالتوں کو ترقی دیتے ہیں اور کامیاب ہو جاتے ہیں اور بعض ان کو پاؤں میں روند دیتے ہیں اور نامراد ہو جاتے ہیں۔قانونِ شریعت بے شک سب کا سب قابل عمل ہے لیکن نجات کی بنیاد عمل پر نہیں ایمان پر ہے جو فضل کو جذب کرتا ہے۔عمل اس کی تکمیل کا ذریعہ ہے اور نہایت ضروری لیکن پھر بھی وہ تکمیل کا ذریعہ ہے اور ذریعہ کی کمی سے چیز کا فقدان نہیں ہوتا۔بیج سے درخت پیدا ہوتا ہے لیکن پانی سے وہ بڑھتا ہے ایمان بیج ہے اور عمل پانی جو اسے او پر اُٹھاتا ہے۔خالی پانی سے درخت نہیں اُگ سکتا لیکن بیچ ناقص ہو اور پانی میں کسی قدر کمی ہو جائے، تب بھی درخت اُگ آتا ہے۔کسان ہمیشہ پانی دینے میں غلطیاں کر دیتے ہیں لیکن اس سے کھیت مارے نہیں جاتے۔جب تک بہت زیادہ غلطی نہ ہو جائے انسانی عمل ایمان کو تازہ کرتا ہے اور اس کی کمی اس میں نقص پیدا کرتی ہے لیکن اس کی ایسی کمی جو شرارت اور بغاوت کا رنگ نہ رکھتی ہو اور حد سے بڑھنے والی نہ ہو ایمان کی کھیتی کو تباہ نہیں کر سکتی اور شرارت و بغاوت بھی ہو تو خدا کا عدل تو بہ کے راستہ میں روک نہیں۔عدل اس کو نہیں کہتے کہ ضرور سزا دی جائے، بلکہ اس کو کہتے ہیں کہ بے گناہ کو سزا نہ دی جائے۔پس گناہ گار کو رحم کر کے بخشنا اللہ تعالیٰ کی صفتِ عدل کے مخالف نہیں عین مطابق ہے۔اگر عدل کے معنی یہ ہوں کہ ہر عمل کی عمل کے برابر جزا ملے تو بخشش اور نجات کے معنی ہی کیا ہوئے؟ اس طرح تو نہ صرف گناہ کا بخشنا عدل کے خلاف ہوگا بلکہ عمل سے زیادہ جزا دینا بھی عدل کے خلاف ہوگا۔کیونکہ عدل کے معنی برابر کے ہیں۔اور اگر یہ صحیح ہو تو کسی شخص کو اس کی عمر کے برابر ایام کے لئے ہی نجات دی جاسکتی ہے اور وہ بھی اس کے اعمال کے وزن کے برابر۔مگر اسے کوئی بھی تسلیم نہیں کرتا پھر نہ معلوم خدا تعالیٰ کی رحمت کو اس مسئلہ سے کیوں محدود کیا جاتا ہے؟ اس نے کہا خدا مالک ہے اور مالک کیلئے انعام اور بخشش میں کوئی حد بندی نہیں۔وہ بیشک وزن کرتا ہے لیکن اس کا وزن اس لئے ہوتا ہے کہ کسی کو اس کے حق سے کم نہ ملے نہ اس لئے کہ اس کے حق سے زیادہ نہ ملے مسیح بیشک بے گناہ انسان اور خدا کا رسول تھا لیکن یہ کہنا درست نہیں کہ وہ دوسروں