انوارالعلوم (جلد 12) — Page 44
۴۴ کیلئے ٹھوکر کا موجب ہوتا ہے- ہر دیکھنے والا دیکھ سکتا ہے اور سوچنے والا سوچ سکتا ہے کہ سورج اندھیرا ہو چکا ہے اور چاند کی روشنی جاتی رہی ہے اور ستارے گر رہے ہیں اور آسمان کی قوتیں ہلائی گئی ہیں- ۵؎ کیونکہ آسمان اور زمین کا تعلق قطع ہو گیا ہے اور انسان نے اپنے پیدا کرنے والے کا خیال بالکل ترک کر دیا ہے اور اس سے منہ موڑ کر اپنی تمام تر توجہ دنیا ہی کی طرف پھیر دی ہے- اور تمثیلی زبان میں اس پیشگوئی کا یہی مطلب تھا کہ آسمان کا تعلق زمین سے قطع ہو جائے گا اور دین کی حکومت جاتی رہے گی اور خدا تعالیٰ کا نور رک جائے گا اور اس میں کیا شک ہے کہ جس قدر دین سے بعد اور خدا تعالیٰ سے بے پرواہی اس زمانہ میں ہے پہلے کبھی نہیں ہوئی- پہلے بھی لوگ بے دین ہوتے تھے لیکن ان میں سے اکثر محسوس کرتے تھے کہ وہ غلطی کے مرتکب ہیں لیکن اس زمانہ میں جو لوگ دین چھوڑ رہے ہیں وہ اس یقین کے ساتھ ایسا کر رہے ہیں کہ وہ ظلمت سے نور کی طرف آ رہے ہیں اور پرانے وہموں کو ترک کر کے علم کی فضاء میں سانس لے رہے ہیں- اسی طرح کہا گیا تھا کہ قوم قوم پر چڑھے گی اور بادشاہت بادشاہت پر حملہ کرے گی اور کتنی جگہوں میں زلزلے ہونگے اور کال پڑیں گے اور فساد اٹھیں گے ۶؎ سو ایسا ہی ہوا- اس زمانہ میں نہ صرف ایک عالمگیر جنگ میں بادشاہتوں نے بادشاہتوں پر حملہ کیا ہے بلکہ قومیں بھی دوسری قوموں پر چڑھ رہی ہیں- اس سے پہلے کوئی زمانہ نہیں گذرا جب کہ ایک ہی وقت میں بادشاہتیں دوسری بادشاہتوں پر حملہآور ہوں اور قومیں قوموں پر حملہ آور ہوں لیکن اس زمانہ میں یہ دونوں قسموں کی جنگیں ایک ہی وقت میں جاری ہیں- حکومتیں ہی حکومتوں پر حملہآور نہیں ہیں بلکہ انسانوں کے مختلف گروہ بھی ایک دوسرے کے خلاف کھڑے ہیں کہیں لیبر(LABOUR) اور کہیں کیپٹل (CAPITAL) کا سوال ہے‘ کہیں مشرق اور مغرب کا سوال ہے‘ کہیں تجارت اور زمیندارے کی بحث ہے‘ کہیں شہری اور دیہاتی کا جھگڑا ہے کہیں ہندو اور مسلم کی لڑائی ہے تو کہیں کنفیوشس کے ماننے والوں اور مسیحیوں میں فساد برپا ہے- غرض قوموں اور گروہوں اور حکومتوں حکومتوں میں ایک ہی وقت میں اس قدر اختلاف رونما ہو رہا ہے کہ دیکھنے والے دنگ ہیں کہ دنیا کو کیا ہو جائے گا- اور یہ جو کہا گیا تھا کہ زلزلے ہونگے اور کال پڑیں گے سو زلزلے گزشتہ تیس سال میں