انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 37 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 37

۳۷ تحفہ لارڈ ارون سب سے زیادہ قدر کی نگاہ سے آپ کے مذہبی جوش کو دیکھتے ہیں- اس دہریت اور مادیت کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ سے محبت اور اس پر توکل بہت ہی مفقود ہو رہا ہے لیکن آپ کی تقریریں اور آپ کے گردو پیش رہنے والے لوگ اس امر کے شاہد ہیں کہ آپ کو ہمیشہ خدا تعالیٰ پر یقین اور اس کی امداد پر بھروسہ رہا ہے اور ان مادی وسائل کے علاوہ جو قیام امن و امان کیلئے آپ استعمال کرتے رہے ہیں آپ نے ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے فضل کی طرف بھی نگاہ رکھی ہے اور آپ کے اس طریق نے ہمارے دلوں میں خاص طور پر گھر کر لیا ہے- یہ قدرتی بات ہے کہ جو اپنے پیارے سے پیار کرے اس سے بھی محبت ہو جاتی ہے- جہاں انگلستان کے لوگوں کو آپ سے اس لئے محبت پیدا ہو گئی ہے کہ آپ انگلستان سے محبت رکھتے ہیں اور ہندوستان کے لوگوں کو آپ سے اس لئے محبت ہو گئی ہے کہ آپ ہندوستان سے محبت رکھتے ہیں‘ وہاں ہماری جماعت کو آپ سے سب سے زیادہ اس وجہ سے محبت ہو گئی ہے کہ آپ ہمارے پیارے رب سے محبت رکھتے ہیں- یورایکسیلنسی! اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ مسیحی ہیں اور ہم مسلمان- اور ایک مسیحی اور ایک مسلمان کے الوہیت کے نقشہ میں بہت کچھ فرق ہے- لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ان اختلافات کو نظر انداز کرتے ہوئے جو مختلف مذاہب کے درمیان اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کے متعلق ہیں سب مذاہب میں خدا تعالیٰ کے متعلق ایک ہی جذبہ کار فرما ہے اور وہ اپنے پیدا کرنے والے سے خواہ وہ کوئی اور کیسی ہی صفات کا مالک کیوں نہ ہو تعلق پیدا کرنے کی خواہش ہے- پس اس خواہش میں آپ کو مشترک دیکھ کر باوجود مذہبی اختلاف کے ہم اپنے دلوں میں آپ سے ایک اتحاد دیکھتے ہیں اور اس سے زیادہ اتحاد کے اللہ تعالیٰ سے متمنی ہیں کہ جو اس سے کچھ بھی محبت رکھتے ہیں وہ انہیں ضائع نہیں کرتا اور ضرور ان کیلئے اپنی ہدایت کو مکمل کرتا ہے- ہم امید کرتے ہیں کہ ہندوستان کے امراء جن کی امارت اور ریاست نے انہیں خدا تعالیٰ اور اس کی عبادت سے مستغنی کر دیا ہے آپ کی مثال کو دیکھ کر ندامت محسوس کریں گے اور اپنی اور اپنی رعایا کی مادی ترقی کے ساتھ روحانی ترقی کی طرف بھی توجہ کریں گے- یورایکسیلنسی! اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ آپ کو پھر اس ملک میں واپس آنے کا موقع ملے گا یا نہیں اور بظاہر امام جماعت احمدیہ کے دوبارہ انگلستان جانے کا احتمال بھی کم ہی معلوم ہوتا