انوارالعلوم (جلد 12) — Page 36
۳۶ تحفہ لارڈ ارون ذریعہ سے جب تک دنیا قائم ہے آپ کی ان مخلصانہ خدمات کی یاد تازہ رہے گی جو ہندوستان میں امن قائم کرنے کی کوششوں کے ذریعہ سے آپ بجا لائے ہیں- یورایکسیلنسی! اس میں کوئی شک نہیں کہ جس وقت ہندوستان کی حکومت کا کام ملکمعظم نے آپ کے سپرد کیا تھا اس وقت ملک کی حالت نہایت خطرناک تھی اور بظاہر معلوم ہوتا تھا کہ ملک روز بروز شقاق و تفرقہ کا شکار ہوتا چلا جائے گا لیکن آپ نے آتے ہی سب سے پہلا کام یہ کیا کہ ملک کے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ ملک کے باہمی مناقشات کے طے کرنے میں آپ کی مدد کریں اور آپ کی اس خواہش کے پورا کرنے میں مدد دینے کیلئے میں نے ایک لمبا خط آپ کو لکھا تھا جو ‘’وائسرائے کے نام ایک خط’‘ کے نام سے چھپ کر شائع ہو چکا ہے مجھے افسوس ہے کہ اس خواہش کو آپ اپنے عہدہ کے ایام میں پورا نہیں کر سکے اور ملک اسی طرح فساد اور جنگ میں آج بھی مبتلا ہے جس طرح کہ پہلے مبتلا تھا- لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ آپ کے زمانہ میں یہ خیال ہندوستانیوں کے دل سے نکل گیا ہے کہ ہندو مسلم مناقشات کی بنیاد گورنمنٹ رکھتی ہے اور یہ کامیابی ظاہر کرتی ہے کہ حکومت برطانیہ کے دشمنوں کے دلوں میں بھی آپ نے اپنی دیانتداری کا سکہ جما لیا ہے اور یہ کوئی معمولی خدمت نہیں ہے- یورایکسیلنسی! ہندوستان اور انگلستان کے تعلقات اس حد تک خراب ہو چکے تھے کہ ہر شخص جو ہندوستان کا خیر خواہ بننا چاہے انگلستان کا دشمن کہلاتا تھا جیسا کہ مسٹر مانٹیگو سے ہوا- اور جو انگلستان کا خیر خواہ بننا چاہے ہندوستان کا دشمن کہلاتا تھا جیسا کہ اکثر گورنروں اور گورنرجنرلوں سے ہوا- ایسے حالات میں یہ اللہ تعالیٰ کا محض فضل تھا کہ اس نے آپ کو یہ توفیق دی کہ اپنے جلیل القدر عہدہ کی باگ ہاتھ سے چھوڑتے ہوئے آپ نہ صرف اپنے ملک کے خیرخواہ تصور کئے جاتے ہیں بلکہ ہندوستان کے خیر خواہ بھی سمجھے جاتے ہیں اور دونوں ملکوں کے قدر شناس اور واقف حال آدمی آپ کو حیرت‘ عزت اور محبت کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں- یہ جو کچھ ہوا یقیناً اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہوا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کا فضل بھی انسان کی اندرونی نیکی ہی جذب کرتی ہے- پس اس عظیم الشان مقصد کے حصول پر میں اور جماعت احمدیہ آپ کو مبارکباد کہتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ آپ کا طریق عمل آپ کے بعد آنے والوں کیلئے مشعل راہ ثابت ہو گا- یورایکسیلنسی! ایک مذہبی جماعت کے افراد ہونے کے لحاظ سے میں اور جماعت احمدیہ