انوارالعلوم (جلد 12) — Page 462
۴۶۲ فرماتا ہے اولئک لم یکونوا معجزین فی الارض وما کان لھم من دون اللہ من اولیاء یضعف لھم العذاب ماکانوا یستطیعون السمع وما کانوا یبصرون- اولئک الذین خسروا انفسھم وضل عنھم ماکانوا یفترون- لا جرم انھم فی الاخرة ھم الاخسرون- ۷۴؎ یعنی لوگ کہتے ہیں کہ یہ نبی جھوٹ پیش کرتا ہے- حالانکہ اس قسم کا جھوٹ بنانے والے تو خدا کے عذاب میں گرفتار ہوتے ہیں- اور وہ عذاب سے ہر گز بچ نہیں سکتے- ان کا عذاب لمحہ بہ لمحہ بڑھتا جاتا ہے اور وہ سچی بات سننے کی بھی طاقت نہیں رکھتے کجا یہ کہ وہ سچی باتیں خود بنا سکیں- وہ عذاب سے گھرے ہوئے ہوتے ہیں- اور جب دنیا میں ان کا یہ حال ہوتا ہے تو تم سمجھ سکتے ہو کہ قیامت میں ان کا کیا حال ہوگا- اس میں بتایا کہ مفتریوں کی تو یہ علامت ہوتی ہے کہ ان پر عذاب نازل ہوتا ہے مگر محمد رسولاللہ ﷺ پر تو کوئی عذاب نہیں آیا بلکہ خدا نے اس کی مدد کی ہے- دوسری علامت مفتری کی یہ ہوتی ہے کہ اس کا عذاب بڑھتا جاتا ہے- مگر اس رسول کی تو ہر گھڑی پہلی سے اچھی ہے- (۳)پھر مفتری کو اپنی تعلیم بدلنی پڑتی ہے- مگر کیا اس نے بھی کبھی قرآن کی کوئی بات بدلی پھر یہ مفتری کس طرح ہو سکتا ہے- وجدک ضالا فھدی کا صحیح مفہوم دوسرا الزام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ لگایا گیا ہے کہ آپﷺ نعوذ باللہ نبوت سے پہلے ضال تھے- اور بعد میں بھی گناہ آپﷺ سے سرزد ہوتے رہے- ان الزامات کی بنا خود قرآن کریم ہی کی بعض آیات کو قرار دیا گیا ہے- ضال کے متعلق تو یہ آیت پیش کی جاتی ہے کہ ووجدک ضالا فھدی۷۵؎ ہم نے تجھے ضال پایا پھر ہدایت دی- اس کا جواب قرآن کریم کی ایک دوسری آیت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے آپ سے ضلالت کی کلی طور پر نفی کر دی ہے- فرماتا ہے- والنجم اذا ھوی- ماضل صاحبکم وما غوی- ۷۶؎ ہم نجم کو شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں- نجم اس بوٹی کو کہتے ہیں جس کی جڑ نہ ہو- فرمایا- ہم اس بوٹی کو شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں جس کی جڑ نہیں ہوتی- جب کہ وہ گر جاتی ہے- یعنی وہ جتنا اونچا ہونا چاہتی ہے اسی قدر گرتی ہے- اس شہادت سے تم سمجھ سکتے ہو کہ تمہارا یہ صاحب کبھی گمراہ نہیں ہوا اور نہ راستہ سے دور ہوا-ضل ظاہری گمراہی کے لئے آتا ہے اور