انوارالعلوم (جلد 12) — Page 344
۳۴۴ حُریّتِ انسانی کا قائم کرنے والا رسول ﷺ کی واحد دولت یعنی تعلق باللہ سے محروم کر دے اور شیطان کی ابدی غلامی میں دے دے‘ یقیناً اس بات کا مستحق ہے کہ اسے بتایا جائے کہ آزادی کا چھن جانا کیسا تکلیف دہ ہے- جو شخص حریت ضمیر انسان سے چھینتا ہے اگر اسے کچھ عرصہ کے لئے جسمانی حریت سے محروم رکھا جائے تو یقیناً یہ سزا اس کے فعل سے کم ہے- ضروری شرائط باوجود اس کے کہ جس جرم کی سزا میں اسلام نے فردی قید کو جائز رکھا ہے‘ وہ بہت شدید ہے اور اس کی سزا بہت کم ہے- پھر بھی اس نے ایسی قیود مقرر کر دی ہیں کہ جن کی وجہ سے یہ قید غلامی کے اس مفہوم سے باہر نکل جاتی ہے جو عام طور پر دنیا میں سمجھا جاتا ہے- کیونکہ اسلام نے ان قیدیوں کے لئے یہ شرائط مقرر کی ہیں-: (۱)ہر شخص جس کے پاس وہ قیدی رہیں‘ وہ انہیں وہی کچھ کھلائے جو خود کھاتا ہے- اور وہی کچھ پہنائے جو خود پہنتا ہے- (۲) کوئی شخص انہیں بدنی سزا نہ دے- (۳) ان سے کوئی ایسا کام نہ لیا جائے جو وہ کر نہ سکتے ہوں- (۴) ان سے کوئی ایسا کام نہ لیا جائے جس کے کرنے سے مالک خود کراہت کرتا ہو- بلکہ مالک کو چاہیئے کہ وہ کام میں ان کے ساتھ شریک ہو- (۵)اگر وہ آزادی کا مطالبہ کریں تو انہیں فوراً آزادی دی جائے بشرطیکہ وہ اپنا فدیہ ادا کر دیں- (۶)فدیہ کی ادائیگی میں بھی یہ شرط رکھی گئی ہے کہ اگر کوئی گھر سے مالدار نہیں ہے اور اس کے رشتہ دار فدیہ دے کر اسے نہیں چھڑا سکتے تو وہ مالک سے ٹھیکہ کر لے کہ فلاں تاریخ تک اتنی قسطوں میں‘ میں یہ رقم ادا کر دوں گا- اس سمجھوتے پر مالک مجبور ہوگا اور اسی دن سے یہ قیدی اپنے مال کا مالک سمجھا جائے گا اور جو کچھ کمائے گا‘ اس کا ہو گا- صرف اپنے وقت معین پر مقررہ قسط ادا کرتا رہے گا- جس دن اصل رقم ادا ہو جائے گی یہ پورے طور پر آزاد سمجھا جائے گا- (۷( غلام کو حق دیا گیا ہے کہ جب کوئی مالک اس کے ساتھ نامناسب سلوک کرتا ہو تو وہ مجبور کر کے اپنے آپ کو فروخت کرا لے-