انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 343 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 343

۳۴۳ حُریّتِ انسانی کا قائم کرنے والا رسول ﷺ حصہ لینا چاہیئے تا کہ کوئی قوم بھی تعدی نہ کر سکے- مذہبی جنگوں میں غلام بنانے کی ممانعت دوسری قسم کی جنگیں مذہبی جنگیں ہیں- ان کے متعلق اسلام نے جو حکم دیا ہے وہ یہ ہے- لکم دینکم ولی دین ۳؎ اور فرمایا ہے- لا اکراہ فی الدین قد تبین الرشد من الغی- ۴؎ یعنی ہر ایک کا دین اس کے ساتھ ہے- اور دلیل اور صحیح طریق عمل واضح کر دینے کے بعد کسی کو ایک دوسرے پر جبر کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی- اگر ہدایت کے ظاہر ہونے کے بعد بھی کوئی شخص ہدایت کو تسلیم نہیں کرتا تو اس کا نقصان اس کو پہنچے گا- دوسروں کو کوئی حق نہیں کہ وہ اس پر زور دیں اور اسے مجبور کر کے اپنے مذہب میں داخل کریں- پس اپنا مذہب منوانے کے لئے جنگ کرنے کا سلسلہ اسلام نے بالکل روک دیا ہے- اور اس طرح حملہ کر کے غلام بنانے کا طریق دنیا سے مٹا دیا ہے- مظلوم قوم کے لئے اجازت مگر چونکہ ضروری نہیں کہ ہر شخص اسلام کی تعلیم پر عمل کرے‘ اور چونکہ مذہبی حملے عام طور پر کمزور قوموں پر ہوا کرتے ہیں - خصوصاً ایسے مذاہب کے پیروؤں پر جو جدید ہوتے ہیں اور ان سے ہمدردی حملہ آور قوم کے علاوہ دوسری قوموں میں بھی نہیں ہوتی‘ اس لئے دنیوی جنگوں کے متعلق جو قانون تھا وہ یہاں پر چسپاں نہیں ہو سکتا- ایسے موقع پر حملہ آور قوم کی ہم مذاہب اقوام یا وہ اقوام جو اس کی ہم مذہب تو نہ ہوں لیکن دوسری قوم کے مذہب سے شدید اختلاف رکھتی ہوں‘ اس مظلوم قوم کی تائید کے لئے کبھی نہیں نکلیں گی- پس ضروری تھا کہ اس مظلوم قوم کے ہاتھ میں کوئی ہتھیار دیا جاتا جس سے وہ اپنے حقوق کی حفاظت کر سکتی اور حملہ آور قوم کے دل میں بھی کوئی ڈر باقی رہتا- پس اس کے لئے اسلام نے یہ اجازت دی کہ اگر ایک قوم اپنا مذہب منوانے کے لئے کسی دوسری قوم پر حملہ کرے تو اس کے قیدیوں کے ساتھ عام جنگی قیدیوں کی نسبت کسی قدر مختلف سلوک کیا جائے- اور وہ یہ سلوک ہے کہ اس کے قیدیوں کو فروخت کرنے کی اجازت ہو تا کہ وہ مظلوم قوم جس پر حملہ کی وجہ ہی اس کا کمزور ہونا تھا‘قیدیوں کی پرورش کے بار کے نیچے دب کر اور بھی تباہ نہ ہو جائے- اس صورت کا نام خواہ غلامی رکھ لو خواہ قید کی کوئی دوسری نوعیت قرار دے لو بہرحال اسلام نے اس کو جائز رکھا ہے- مگر کوئی عقل مند انکار نہیں کر سکتا کہ ایک کمزور قوم پر اس غرض سے حملہ کرنے والا کہ اسے اس