انوارالعلوم (جلد 12) — Page 216
انوار العلوم جلد ۱۴ ۴۱۶ تحریک آزادی کشمیر ۲۱۶ اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم اہل کشمیر کے نام چوتھا خط (سلسلہ دوم) برادران! السلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ- میں نے اس امر کو دیکھ کر کہ حکام کشمیر بغیر اس امر کا خیال کئے کہ میرے خطوط ان کے فائدہ کے ہیں یا نقصان کے‘ خطوط کو ضبط کرتے رہے ہیں آئندہ خط لکھنے میں وقفہ ڈال دیا تھا لیکن جیسا کہ آپ لوگوں کو معلوم ہے میں آپ لوگوں کے کام کے لئے دہلی گیا تھا اور جموں میں بھی مناسب کوشش کرتا رہا ہوں- سو الحمدللہ کہ سر راجہ ہری کشن کول صاحب تو ریاست کو چھوڑ گئے ہیں اور نیا انتظام امید ہے کہ مسلمانوں کے حق میں مفید ہو گا- گو میرے نزدیک آدمیوں کی تبدیلی نہیں بلکہ قانون اور نیت کی تبدیلی سے رعایا کو فائدہ پہنچ سکتا ہے- آل انڈیا کشمیر کمیٹی نے جو کچھ کوششیں کی ہیں‘ اس کے نتیجہ میں مجھے امید ہے کہ بہت جلد اہل کشمیر کی اکثر تکالیف دور ہو جائیں گی اور ان کی آئندہ ترقی کا سامان پیدا ہو جائے گا- یہ کس رنگ میں ہو گا اور کب ہو گا اس سوال کا جواب دینے سے میں ابھی معذور ہوں- ہاں آپ لوگ تسلی رکھیں کہ انشاء اللہ ایک ماہ یا اس کے قریب عرصہ میں ایسے امور ظاہر ہوں گے جو آپ لوگوں کے لئے خوشی کا موجب ہوں گے اور آپ گذشتہ تکالیف کو بھول جائیں گے لیکن اصل کام اسی وقت سے شروع ہو گا کیونکہ حق کا ملنا اور اس سے فائدہ اٹھانا الگ الگ امور ہیں- اگر ریاست کشمیر کے مسلمانوں نے حقوق سے فائدہ اٹھانے کی کوشش نہ کی تو سب قربانی ضائع جائے گی- آپ لوگوں کو گذشتہ ایام میں سخت تکالیف کا سامنا ہوا ہے اور اب تک ہو رہا ہے-