انوارالعلوم (جلد 12) — Page 129
۱۲۹ میں رہ چکے ہیں- چنانچہ مولوی محمد اسماعیل صاحب غزنوی‘ مولوی غلام رسول صاحب مہر اور دیگر کئی ممبر اس کے ایسے ہیں جو جیل خانوں میں ہو آئے ہیں- لیکن احرار کہہ رہے ہیں کہ ابھی تک ان کی ٹوڈیت نہیں گئی- اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے جاپان کے ایک سیاست دان نے لکھا تھا کہ یورپ کے لوگ ہمیں غیر مہذب کہتے تھے- ہم نے خیال کیا شاید تہذیب تعلیم حاصل کرنے سے آتی ہے اس لئے ہم نے مدرسے جاری کئے مگر پھر بھی غیر مہذب ہی کہلاتے رہے- پھر خیال کیا شاید انڈسٹری کی ترقی سے تہذیب حاصل ہو سکے گی اس لئے اسے فروغ دینے کی پوری کوشش کی مگر پھر بھی ہمیں مہذب نہ سمجھا گیا- پھر ہم نے سوچا شاید یورپین ممالک میں تعلیم حاصل کرنے کا نام تہذیب ہے اور ہم نے کثرت سے نوجوان دوسرے ممالک میں اس غرض کیلئے بھیجے مگر پھر بھی اہل یورپ ہمیں غیر مہذب ہی سمجھتے رہے- پھر ہم نے فوجوں کی درستی کی‘ کئی جہاز بنائے‘ مگر سب چیزیں اکارت گئیں اور ہم بدستور غیر مہذب سمجھے جاتے رہے حتی کہ منچوریا۷؎ کے میدان میں ہم نے ایک لاکھ سفید چمڑے والے روسیوں کو تہہ تیغ کر دیا اور پھر اہل مغرب ہمیں مہذب سمجھنے لگے مگر دقت یہ ہے کہ وہاں تو پھر بھی مہذب کی تعریف معلوم ہو گئی تھی مگر یہاں تو ٹوڈی کی کوئی بھی تعریف اس وقت تک معلوم نہیں ہو سکی- بعض اخبارات ایسے لوگوں کو بھی ٹوڈی لکھتے ہیں جو ان سے زیادہ عرصہ تک جیل خانوں میں رہ چکے ہیں لیکن بات یہ ہے کہ منہ سے کہہ دینا اور بات ہے لیکن دلائل اور حقائق سے ثابت کرنا اور بات ہے- کشمیر کمیٹی میں مولوی میرک شاہ صاحب جیسے دیو بندی اور مولوی محمد ابراہیم صاحب میر سیالکوٹی اور مولوی محمد اسماعیل صاحب غزنوی جیسے اہل حدیث اور پیروں میں سے خواجہ حسن نظامی صاحب‘ مولانا ابوالحمید ظفر صاحب بنگالی جیسے‘ سیاست دانوں میں سے مولانا حسرت موہانی‘ مولانا شفیع داؤدی‘ ڈاکٹر شفاعت احمد صاحب کانگریسیوں میں سے ملک برکت علی اور مشیر حسین صاحب قدوائی‘ تعلیم جدید کے ماہرین میں سے ڈاکٹر ضیاء الدین صاحب جیسے اور فلسفیوں اور شاعروں میں ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب جیسے کشمیر کے مسلمانوں کے دیرینہ خادموں میں سے سیدمحسن شاہ صاحب جیسے لوگ شامل ہیں- آخر سوچنا چاہئے یہ کیا ہوا چلی کہ مذہبی لیڈر علوم دینیہ کے ماہر‘ آزادی و حریت کے رہنما‘ فلسفہ و شعر میں کمال رکھنے والے سب کے سب نے مل کر یکدم فیصلہ کر لیا کہ آؤ ایسا دھوکا کریں کہ سب دنیا احمدی ہو جائے- میرے پاس وہ