انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 116 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 116

۱۱۶ پندرہ دن پہلے یہ اعلان کر چکے تھے کہ سب فتنہ کول صاحب کی وجہ سے ہوا تھا- پندرہ دن بعد وہ ان کی پر زور تعریف کرتے ہیں- مہذب دنیا دونوں بیانات میں سے ایک کو ضرور غلط قرار دے گی اور اگر آئندہ کول صاحب مسلمانوں پر کوئی تشدد کریں گے تو ان کے خلاف آواز نہایت بے اثر ہوگی- اور یہی سمجھا جائے گا کہ باہر کے لوگوں نے جوش دلا کر احتجاج کرایا ہے- ایک فائدہ خلاصہ یہ کہ یہ معاہدہ اصولاً سخت مضر ہے اور ریاست اس کے ذریعہ سے تمام گزشتہ کوشش کو برباد کر سکتی ہے- ہاں ایک فائدہ اس معاہدہ کا ہوا ہے اور وہ یہ کہ ریاست نے ایک دفعہ مسلمانوں کی ہستی کو تسلیم کر لیا ہے لیکن اس فائدہ کے مقابلہ میں نقصان بہت زیادہ ہے اور اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس کے بد اثرات سے مسلمانوں کو محفوظ رکھے- سنا گیا ہے کہ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ معاہدہ صلح حدیبیہ کی طرح ہے لیکن یہ درست نہیں- صلح حدیبیہ کی شرائط بظاہر بری نظر آتی تھیں لیکن گہرے غور پر ان میں مسلمانوں کا فائدہ نظر آتا تھا- اس معاہدہ کی صورت اس کے برخلاف یہ ہے کہ بظاہر مسلمانوں کے حق میں نظر آتا ہے لیکن بہ باطن اس میں ان کے لئے سخت نقصانات ہیں- ہنستے ہوئے نمائندوں کی غلطی کو منظور کر لیا جائے مگر خیر اب جو کچھ ہو چکا سو ہو چکا- ہمیں گرے ہوئے دودھ پر بیٹھ کر رونے کی ضرورت نہیں- اب ہمارا فرض یہ ہے کہ موجودہ حالت سے جس قدر فائدہ اٹھا سکیں اٹھائیں اور اس کے ضرر سے جس قدر بچ سکیں بچیں- بہرحال مسلمانوں کے نمائندوں نے یہ معاہدہ کیا ہے اور مسلمانوں کا فرض ہے کہ اس کی پوری طرح اتباع کریں کیونکہ مسلمان دھوکے باز نہیں ہوتا اور جو قوم اپنے لیڈروں کی خود تذلیل کرتی ہے وہ کبھی عزت نہیں پاتی- نیز مسلمانوں میں قحط الرجال ہے اور کام کرنے کے قابل آدمی تھوڑے ہیں پس انہی سے کام لیا جا سکتا ہے اور لینا چاہئے- پس یہ نہیں ہونا چاہئے کہ اس مضمون کو پڑھ کر کوئی جوشیلا شخص جموں اور کشمیر کے لیڈروں کی مخالفت شروع کر دے- انہوں نے دیانتداری سے کام کیا ہے اور ہمیں ان کی قربانیوں کا احترام کرنا چاہئے- اور ہنستے ہوئے ان کی غلطی کو قبول کرنا چاہئے اور اس کے ضرر سے بچنے کا بہترین طریق سوچنا چاہئے-