انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 117 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 117

۱۱۷ اب کیا کرنا چاہئے وہ طریق میرے نزدیک یہ ہے کہ وقت کی تعیین سے اس معاہدہ کے ضرر کو محدود کر دیا جائے اور آئندہ کے لئے اپنے آپ کو آزاد کرا لیا جائے- میرے نزدیک اس کی بہتر صورت یہ ہے کہ دستخط کرنے والے نمائندگان ریاست کو ایک دوسری یادداشت یہ بھجوا دیں کہ چونکہ عارضی صلح کا وقت کوئی مقرر نہیں اور یہ اصول کے خلاف ہے- اس فروگزاشت کا علاج ہونا چاہئے- پس ہم لوگ یہ تحریر کرتے ہیں کہ ایک ماہ تک اس کی معیاد ہوگی- اگر ایک ماہ کے اندر مسلمانوں کے حقوق کے متعلق ریاست نے کوئی فیصلہ کر دیا یا کم سے کم جس طرح انگریزی حکومت نے ہندوستان کے حقوق کے متعلق ایک اصولی اعلان کر دیا ہے‘ کوئی قابل تسلی اعلان کر دیا تب تو اس عارضی صلح کا زمانہ یا لمبا کر دیا جائے گا یا اسے مستقل صلح کی شکل میں بدل دیا جائے گا- لیکن اگر ایک ماہ کے عرصہ میں ریاست نے رعایا کو ابتدائی انسانی حقوق نہ دیئے یا ان کے متعلق کوئی فیصلہ نہ کیا تو یہ صلح ختم سمجھی جائے گی اور دونوں فریق اپنی اپنی جگہ پر آزاد ہونگے- اس کا یہ فائدہ ہوگا کہ کام کا وقت گزر جانے سے پہلے ہی کچھ نہ کچھ فیصلہ ہو جائے گا- یا پھر اہالیان کشمیر کے لئے اور ان کے بیرونی دوستوں کے لئے کام کا وقت موجود رہے گا- ہم فوراً راؤنڈ ٹیبل کانفرنس کے نمائندوں کے ذریعہ سے اور دوسرے ذرائع سے کام لے کر انگلستان اور دوسرے مہذب ممالک میں پروپیگنڈا شروع کر سکیں گے- نیز اس طرح وقت مقرر کرنے سے ہندوستان کے مسلمانوں کا جوش بھی قائم رہے گا اور وہ کام سے غافل نہ ہونگے- ورنہ بالکل ممکن ہے کہ اس صلح کا باہر ایسا برا اثر پڑے کہ دوبارہ لوگوں کو تیار کرنا مشکل ہو جائے- میں امید کرتا ہوں کہ نمائندگان خود بھی اس طرف فوراً توجہ کریں گے اور عام مسلمان بھی ان پر زور دیں گے کیونکہ جو کچھ بھی اس معاہدہ کے نتیجہ میں پیدا ہوا آخر اس کا اثر نمائندگان پر نہیں بلکہ ان تیس لاکھ مسلمانوں پر ہوگا جن کی نسبت سرایلبینبینر جی لکھتے ہیں کہ وہ بے زبان جانوروں کی طرح ہانکے جا رہے ہیں- واخر دعوئنا انالحمد للہ رب العلمین- خاکسار مرزا محمود احمد (الفضل ۳ ستمبر۔۱۹۳۱ء)