انوارالعلوم (جلد 12) — Page 85
۸۵ اطراف و اکناف عالم میں پہنچے اور جہاں گئے وہاں کے عالموں کو زیر کیا- یہ وہ نور تھا جو خدا نے انہیں بخشا تھا اور اس نور کو لے کر وہ جس طرف نکلے خدا نے انہیں کامیابی عطا کی- حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کے زمانہ میں ایک شخص پیرا نام یہاں آیا وہ کسی سخت مرض میں مبتلا تھا- لوگوں نے اسے بتایا تھا کہ تو قادیان چلا جا- حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام نے اس کا علاج کیا اور وہ اچھا ہو گیا- بعد میں اس کے رشتہ دار اس کو لینے کے لئے آئے تو اس نے جانے سے انکار کر دیا اور کہا میں اب اس جگہ کو چھوڑ کر نہیں جا سکتا- وہ شخص پیرا اس قدر سادہ طبع تھا کہ مٹی کا تیل دال میں ڈال کر روٹی کے ساتھ کھا جاتا ان دنوں میں مولوی محمدحسین صاحب بٹالوی بٹالہ کی سڑک پر جا کر لوگوں کو قادیان آنے سے روکا کرتے تھے- ایک دن پیرا جو ادھر سے گزرا تو مولوی محمد حسین صاحب نے اسے بھی روکا اور قادیان جانے سے منع کیا- پیرا نے کہا کہ مولوی صاحب! یہ بات میری سمجھ میں نہیں آتی کہ مرزا صاحب تو ایک چھوٹے سے گمنام گاؤں کے ایک گوشہ میں بیٹھے ہیں‘ وہ گھر سے باہر بھی کم نکلتے ہیں‘ نہ لوگوں سے زیادہ ملتے جلتے ہیں لیکن پھر بھی میں دیکھتا ہوں کہ لوگ دیوانہ وار اس طرف کھچے چلے جاتے ہیں- اور ایک آپ ہیں کہ آپ نے اس سڑک کے ہزاروں چکر کاٹے‘ آپ کی ایڑیاں گھس گئیں اور جوتیاں ٹوٹ گئیں لیکن پھر بھی آپ لوگوں کو قادیان جانے سے نہ روک سکے- پس دیکھو کہ کس طرح اللہ تعالیٰ سچے سلسلہ میں ہونے والوں کے دلوں کو کھول دیتا ہے اور انہیں اس طرح باطنی علوم سے پر کر دیتا ہے کہ بڑے بڑے عالم ان کے سامنے شرمندہ ہو جاتے ہیں- پس میں نصیحت کرتا ہوں کہ کوئی مبلغ تمہارے کام میں نہیں آئے گا جب تک تم میں سے ہر فرد مبلغ نہ بنے- یاد رکھو کہ خدا اور بندہ کے درمیان کوئی واسطہ نہیں ہے- ہر انسان کا خدا تعالیٰ کے ساتھ براہ راست تعلق ہے- ہاں راہنما ہوتے ہیں لیکن وہ اس راہ میں روک نہیں بلکہ وہ تو راستہ دکھانے والے ہوتے ہیں اور اگر کسی کا وجود اس راہ میں روک ہو تو وہ دنیا کے لئے زحمت ہے نہ کہ رحمت- پس کوشش کرو کہ تم میں سے ہر فرد مبلغ بنے اور خدا تعالیٰ کے ساتھ اس کا تعلق پیدا ہو- آج ایک انجنیئر صاحب مجھ سے ملے- کہنے لگے ہمارے گاؤں میں ایک شخص (حضرت( مرزا صاحب کا سخت مخالف تھا وہ اب دیوانہ ہو گیا ہے- آپ لوگ جھٹ کہہ دیں گے کہ یہ حضرت مرزا صاحب کی مخالفت کا نتیجہ ہے- میں نے کہا دیکھو اگر دو چار واقعات ایسے ہوتے تو